Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎ یعنی یہاں کنز کے اصطلاحی معنے مراد ہیں کہ مال جمع رکھنا،اس سے اﷲ کے حق نہ نکالنا،فقراء کے حقوق ادا نہ کرنا۔خیال رہے کہ زکوۃ نکالنے سے مال ایسا ہی پاک ہوجاتاہے جیسے جانور کا خون نکل جانے سے گوشت یا کیلے اور آم وغیرہ کا چھلکا علیحدہ کردینے سے مغز کھانے کے قابل ہوجاتاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا"۔

۴؎ یعنی اگر مال جمع کرنا  مطلقًا حرام ہوتا تو اس میں سے زکوۃ کیوں دی جاتی اور مالک کے مرنے کے بعد بطور وارثت دوسروں کو کیسے ملتا۔ان احکام سے معلوم ہورہا ہے کہ مال کا جمع کرنا منع نہیں بلکہ عبادت ہےکیونکہ بہت سی عبادتوں کا موقوف علیہ ہے اور عبادت کا موقوف علیہ بھی عبادت ہوتا ہے،زکوۃ جب ادا ہو جب سال بھر مال مالک کے پاس جمع رہے اور میراث جب بٹے جب مرتے وقت تک مال مالک کے پاس جمع رہے۔خیال رہے کہ وذکر کلمۃ راوی کا قول ہے یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی فرمایا جو مجھے یاد نہیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بعد والوں کو مال ملے۔

۵؎ یعنی مسئلہ حل ہوجانے پر جناب فاروق اعظم کو خوشی ہوئی اور خوشی میں اﷲ اکبر کہا۔اس سے معلوم ہوا کہ دینی مسئلہ معلوم ہونے پر خوش ہونا اور خوشی میں اﷲ اکبر کا نعرہ لگانا سنت صحابہ ہے۔

۶؎  یعنی اے عمر اگرچہ مال جمع کرنا جائزہے مگر تم لوگ اسے اپنا اصل مقصود نہ بنالو اس سے بھی بہتر مسلمان کے لیے نیک بیوی ہے کہ صورت بھی اچھی ہو اور سیرت بھی کہ اس کے نفع مال سے زیادہ ہیں کیونکہ سونا چاندی اپنی ملک سے نکل کر نفع دیتے ہیں اور نیک بیوی اپنے پاس رہ کر نافع ہے،سوناچاندی ایک بار نفع دیتے ہیں اور بیوی کا نفع قیامت تک رہتا ہے مثلًا رب تعالٰی اس سے کوئی نیک بیٹا بخشے جو زندگی میں باپ کا وزیر بنے اور بعدموت اس کا خلیفہ۔حدیث شریف میں ہے کہ نکاح سے مرد کا دو تہائی دین مکمل ومحفوظ ہوجاتاہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جمیلہ عورت کا چہرہ جمال الٰہی کا آئینہ ہوتا ہے اور اس کی نیک خصلت صفات الٰہی کا مظہر ہوتی ہے۔سبحان اﷲ! سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کتنا جامع ہے عورت کی سیرت دوکلموں میں بیان فرمادی کہ جب خاوند گھر میں موجود ہو تو اس کی ہر جائز بات مانے اور جب غائب ہو یعنی سفر میں ہو یا مرجائے تو اس کے مال، عزت و اسرار کی حفاظت کرے یعنی آمنہ  امینہ و مامونہ ہو۔

1782 -[11]

عَن جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَأْتِيكُمْ رُكَيْبٌ مُبَغَّضُونَ فَإِذا جاؤكم فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهِمْ وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر ابن عتیک سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تمہارے پاس غیر پسندیدہ سوار آیا کریں گے تو وہ جب آئیں تم انہیں خوش آمدید کہو اور جو وہ چاہتے ہوں ان کے سامنے حاضر کردو ۲؎ پھر اگر وہ انصاف کریں تو اس میں ان کا فائدہ ہے اور اگر ظلم کریں تو انہیں مضر ہے تمہاری زکوۃ کی تکمیل ان کا راضی ہوناہے چاہیئے  کہ وہ تمہیں دعائیں دیں۳؎(ابوداؤد)

۱؎ آپ انصاری ہیں اورمشہورصحابی ہیں،آپ کے جنگ بدر کی شرکت میں اختلاف ہے،باقی سارے غزووں میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،آپ کی کنیت ابوعبداﷲ ہے،عمر شریف ۹۱ سال ہوئی،    ۶۱ ھ؁  میں وفات پائی۔

 



Total Pages: 441

Go To