We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ زمانہ جاہلیت حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے زمانہ کو کہتے ہیں جب اہلِ عرب بالکل اندھیروں میں تھے گذشتہ نبیوں کی تعلیم گم ہوچکی تھی،مگر یہاں اشاعت نبوت سے پہلے کا زمانہ مرادہے کیونکہ حضرت عمر کی یہ نذر قبول اسلام کے بعد کی ہے کہ آپ نے مسلمان ہو کر یہ نذر مانی مگر پوری نہ کرسکے کیونکہ کفار مکہ کا بہت زور تھا وہ آپ کو مسجد حرام میں رات گزارنے نہ دیتے تھے وہاں ٹھہرنے میں آپ کو جان کا خطرہ تھا۔(مرقاۃ)

۲؎ رات سے مراد رات مع دن ہے،اہل عرب رات بول کر پورے چوبیس گھنٹے مراد لیتے ہیں، ورنہ نذر کے اعتکاف میں روزہ شرط ہے اور وہ دن ہی میں ہوتا ہے۔ امام شافعی کے ہاں صرف رات بھر کا بھی اعتکاف ہوسکتا ہے ان کے ہاں روزہ شرط نہیں وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں،مگر یہ دلیل نہایت ہی کمزور ہے آگے صراحتہً حدیث آرہی ہے کہ بغیر روزہ اعتکاف نہیں اس صریحی حدیث کے ہوتے ہوئے اس اشارہ پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔

۳؎ یہ امروجوبی ہے کیونکہ حضرت عمر کی نذر اسلام قبول کرلینے کے بعد کی ہے مسلمان کی نذر درست ہے،اگر کافر زمانہ کفر میں کسی اچھے کام کی نذر مانے،پھر مسلمان ہوجائے تو اسے نذر پورا کرنا مستحب ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو کعبہ معظمہ یعنی مسجد حرام میں اعتکاف کا حکم دیا، بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر مسجد نبوی میں اعتکاف کی نذر مانی ہو تو دوسری مسجد میں اعتکاف نہیں کرسکتا،ان کی دلیل یہ حدیث ہے بعض کے ہاں کرسکتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم استحبابی ہے۔

۴؎ یہ حدیث ابوداؤد،نسائی اور دارقطنی نے بھی نقل کی مگر ان کی روایت میں ہے کہ جناب عمر نے کعبہ معظمہ کے پاس ایک دن و رات اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی،نسائی دار قطنی نے روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعتکاف اور روزے کا حکم دیا۔(مرقات)فتح القدیر میں ہے کہ مسلم و بخاری کی روایت میں بھی ہے کہ حضرت عمر نے ایک دن و رات کے اعتکاف کی نذر پوری کی تھی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2102 -[6]

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا. فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمقبل اعْتكف عشْرين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

2103 -[7]

وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بن كَعْب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ایک سال اعتکاف نہ کرسکے ۱؎ جب اگلاسال آیا تو حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف کیا ۲؎(ترمذی)

 

اورابوداؤد،وابن ماجہ نے حضرت ابی بن کعب سے روایت کی۔

۱؎ کسی مجبوری کی وجہ سے ورنہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بلاعذر اعتکاف کبھی نہ چھوڑا،ہمیشہ رمضان کے آخری عشرے میں کرتے تھے۔(مرقات)

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ گزشتہ رمضان کے اعتکاف کی قضا ء نہ تھی ورنہ اس رمضان تک انتظار نہ فرماتے،وہ رمضان گزرتے ہی قضاء کرلیتے جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے آخری رمضان میں جس کے بعد وفات شریف واقع ہوئی بیس دن اعتکاف فرمایا تھا ایسے ہی اس رمضان میں کیا، ہوسکتاہے کہ دس دن گزشتہ رمضان کی قضاء ہی ہوں تو یہ قضا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات



Total Pages: 441

Go To