We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب الاعتکاف

اعتکاف کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اعتکاف عکف سے بنا بمعنی ٹھہرنا یا قائم رہنا رب تعالٰی فرماتاہے:"یَّعْکُفُوۡنَ عَلٰۤی اَصْنَامٍ لَّہُمْ" اورفرماتاہے:"وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَ فِی الْمَسٰجِدِ"۔شریعت میں بہ نیت عبادت مسجد میں خاص ٹھہرنے کو اعتکاف کہا جاتا ہے۔ اعتکاف بڑی پرانی عبادت ہے رب تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ و اسمعیل علیہما السلام سے فرمایاتھا:"اَنۡ طَہِّرَا بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَالْعٰکِفِیۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ"۔اعتکاف تین قسم کاہے: اعتکاف فرض جیسے نذر مانا ہوا اعتکاف،اس میں روزہ شرط ہے اور اس کی مدت کم از کم ایک دن و رات ہے۔اعتکاف سنت،یہ بیسویں رمضان کی عصر سے عید کا چاند دیکھنے تک ہے۔ اعتکاف نفل اس میں نہ روزہ شرط ہے نہ اس کی مدت مقرر جب بھی مسجد میں جائے تو کہہ دے میں نے اعتکاف کی نیت کی جب تک مسجد میں رہوں۔ حق یہ ہے کہ رمضان کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے کہ اگر بستی میں کسی نے نہ کیا تو سب سنت کے تارک ہوئے اگر ایک نے بھی کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوگیا مرد تو جماعت والی مسجد میں ہی اعتکاف کرسکتا ہے جہاں نماز پنجگانہ باجماعت ہوتی ہو مگر عورت اپنے گھر میں کوئی جگہ صاف و پاک کرکے وہاں ہی اعتکاف کرلے جسے مسجد خانہ کہتے ہیں(لمعات مرقات)وغیرہ۔

2097 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بعده

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے حتی کہ اﷲ نے انہیں وفات دی ۱؎ پھر آپ کی بیویوں نے آپ کے بعد اعتکاف کیا ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ اس ہمیشگی سے معلوم ہوا کہ اعتکاف سنت مؤکدہ ہے اور چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم امت کو صراحۃً نہ دیا بلکہ رغبت دی معلوم ہوا کہ یہ اعتکاف واجب نہیں کیونکہ وجوب کے لیے حکم دینا ضروری ہے،لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ رمضان کا اعتکاف سنت مؤکدہ ہے،پھر سارے مدینہ منورہ میں صرف حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ ہی اعتکاف کرتے تھے سب مسلمان نہ کرتے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔

۲؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ازواج پاک نے ہمیشہ اپنے گھروں میں اعتکاف کیا نہ کہ مسجد نبوی شریف میں مسجد میں تو ایک بار ان بیویوں نے اعتکاف کیا تھا،اعتکاف کے لیے کپڑے کے خیمے لگائے تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اکھڑوادیئے تھے۔ فقہا فرماتے ہیں کہ اگرچہ عورت مسجد میں بھی باپردہ رہ کر اعتکاف کرسکتی ہے مگر اس کے لیے گھر میں اعتکاف بہت اچھا ہے۔

2098 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَان وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرّيح الْمُرْسلَة

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تمام سے بڑھ کر ہر بھلائی کے سخی داتا تھے ۱؎ اور آپ رمضان میں تو بہت ہی سخاوت فرماتے تھے ۲؎ ہر رات جبریل امین آپ سے ملتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت جبریل پر قرآن پیش فرماتے تھے۳؎ تو جب آپ سے جبریل ملتے تب آپ بھیجی ہوئی تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی بالخیر ہوتے تھے ۴؎(مسلم، بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To