Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۴؎ یعنی ان بندوں نے رمضان کی عبادات پوری کرلیں روزے،تراویح،اعتکاف،شبِ قدر کی شب بیداری وغیرہ سب کام پورے کرچکے اب بتاؤ ہم کیا کریں ا ور انہیں کیا دیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ انسان کا کام تو مرتے وقت پورا ہوتا ہے ابھی یہ کیوں فرمایا گیا،کیوں یہاں اس ماہ کی عبادات پوری کرلینا مراد ہے۔

 ۵؎ کہ یہ تو ان مزدورں کا حق ہے جوتو نے اپنے ذمہ کرم پر لازم فرمالیا ہے آگے جو تو کرم فرمائے تو تیرا کرم ہے جو سب کے وہم گمان سے وراء ہے یہ کلام در پردہ فرشتوں کی سفارش ہے۔خیال رہے کہ فرشتے مؤمنوں کے لیے عمومی دعا تو ہمیشہ کرتے رہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا"اورخصوصی دعائیں خاص موقعوں پر کرتے ہیں،یہ سب کچھ اسکا عوض ہے جو انہوں نے بارگاہ الٰہی میں انسانوں کی شکایت کی تھی اسی لیے شبِ قدر میں فرشتے ہی دعائیں کرنے آتے ہیں،اور آج فرشتوں ہی سے یہ خطاب ہے۔

۶؎ اس حدیث سے پتہ لگا کہ عیدالفطر کی نماز جنگل میں نکل کر پڑھنا بہتر ہے اور یہ نماز درحقیقت اس نعمت کا شکریہ ہے کہ جس نے ہمیں رمضان کی عبادات کی توفیق بخشی قرآن کریم فرماتاہے:"وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَاہَدٰىکُمْ"بے روزہ چوروں اور روزہ چھوڑوں اور روزہ توڑوں کو عید کی خوشی منانے کا حق ہی نہیں مگر آج کل عید کی زیادہ خوشی یہ ہی لوگ مناتے دیکھے گئے۔

 ۷؎ یعنی بعد نماز عید جو دعا مانگیں گے وہ قبول کروں گا معلوم ہوا کہ نماز عید کے بعد دعا ضرور مانگے،اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ نماز عید کے بعد دعا مانگنا بدعت ہے نہیں مانگنا چاہیے۔

۸؎  اس طرح کہ تمہارے سارے گناہ بخش دے،چھوٹے ہوں یا بڑے یہ ہی زیادہ ظاہر ہے۔

 ۹؎ مرقات نے فرمایا کہ معافی و بخشش تو گنہگاروں کے لیے ہے اور گناہوں کو نیکیاں بنا دیناتوبہ کرنے والوں کے لیے اس کی تائید اس آیت سے ہے"اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ"۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نامۂ اعمال سے گناہ مٹا کر ان کی جگہ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں جن پر اجروثواب ملتاہے یہ رب تعالٰی کے کرم سے کوئی بعید نہیں شیخ سعدی فرماتے ہیں ع گاہے بدشنامے خلعت دہند۔

 ۱۰؎ یہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جو عیدگاہ جا کر نماز پڑھتے ہیں رہے وہ لوگ جو وہاں نہیں جاتے جیسے دیہاتی لوگ اور عورتیں وغیرہ ان کی بخشش اس کے بغیر بھی ہوتی ہے جیسے عام مسلمانوں کی بخشش روزہ نماز سے بچوں اور دیوانوں کی بخشش محض کرم سے اس کی عطا ہماری طلب پر موقوف نہیں۔شعر

مانہ بودیم وتقاضا مانبود                             لطف توناگفتہ مامے شنید


 

 



Total Pages: 441

Go To