Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ہے۔خیال رہے کہ آپ معتکف نہ ہوتے تھے کیونکہ فرضی اعتکاف تو چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے اور اعتکاف سنت رمضان کے پورے آخری عشرہ کا اور اعتکاف نفلی ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے مگر اس میں مسجد سے باہر آنا ممنوع نہیں جب چاہے معتکف باہر آجائے اور جب چاہے اندر جائے اور پھر نیت اعتکاف کرلے لہذا جن شارحین نے اس سے اعتکاف سمجھا وہ مناسب نہیں معلوم ہوتا۔آپ اس رات کی حاضری کو غنیمت جانتے تھے اور ایک منٹ کے لیے بھی باہر نہ آتے تھے۔

۷؎  اور پھرشہر میں کبھی کبھار آتے۔اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اس رات کو وہ شب قدر جان کر یہ عبادت کرتے تھے جیساکہ مرقات میں ہے۔

۸؎   ابوداؤدنے یہ حدیث ضمرہ ابن عبداﷲ ابن انیس سے روایت کی،اس اسناد میں محمد ابن اسحاق راوی ہیں جن کا حال یہ ہے کہ اگر وہ حدثنا کہہ کر روایت کریں تو اسناد صحیح ہوتی ہے اصل حدیث مسلم کی ہے بروایت بشر ابن سعید۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2095 -[13]

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: «خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَة وَالْخَامِسَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شبقدر بتانے تشریف لائے ۱؎ تو دو مسلمان مرد لڑ پڑے ۲؎ حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں شب قدر بتانے آیا تھا مگر فلاں فلاں لڑ پڑے تو شبِ قدر اٹھالی گئی ۳؎ ممکن ہے یہ اٹھالیا جانا تمہارے لیے بہتر ہی ہو۴؎ اب اسے آخری نویں،ساتویں،پانچویں میں تلاش کرو ۵؎(بخاری)

۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کی خبربھی دے دی گئی اور بتانے کی اجازت بھی دے دی گئی اس لیے سر کار بتانے کے لیے تشریف لائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو شبقدر کا علم دیا۔

۲؎ غالبًا یہ حضرات عبداﷲ ابن ابی حدرد اور کعب ابن مالک تھے جن کا جھگڑا قرض کے متعلق تھا جن میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا معاف کرادیا اور باقی آدھا ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

۳؎ یعنی میرے علم سے اس کا تقرر دور کردیا گیا اور مجھے بھلا دی گئی،یہ مطلب نہیں کہ خود شب قدر ہی ختم کردی اب وہ ہوا ہی نہ کرے گی ان جھگڑنے والوں کا جھگڑانا حق بھی تھا اور اعتدال سے زیادہ بھی جس کا اثر یہ ہوا۔معلوم ہوا کہ دنیاوی جھگڑے منحوس ہیں ان کا وبال بہت ہی زیادہ ہے ان کی وجہ سے اللہ کی آتی ہوئی رحمتیں رک جاتی ہیں۔

 ۴؎ یعنی اس شر کے ضمن میں تمہارے لیے خیر ہے کہ اب تم شبِ قدر تلاش کرو گے اور اس کی تلاش بھی عبادت ہے،لہذا تم اس پر بھی بہت ثواب پاؤ گے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص شبِ قدر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے تو وہ بھی لوگوں پر ظاہر نہ کرے کہ اس کا ظاہر نہ کرنا سنت ہے اور ظاہر کردینا خلاف سنت اﷲ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کردیا تھا مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحقیقی اطلاع نہ دی تھی یا علامتیں بتائیں یا نوعی تقرر ظاہر کیا۔

 



Total Pages: 441

Go To