We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1780 -[9]

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُم على عمر فَكَتَمَنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولًا يَأْتِي بِهِ يَوْم الْقِيَامَة».رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عدی ابن عمیرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہم تم میں سے جسےکسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے زیادہ چھپالے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لائے گا ۱؎ (مسلم)

۱؎ یعنی خیانت چھوٹی ہو یا بڑی قیامت میں سزا اور رسوائی کا باعث ہے خصوصًا جو خیانت زکوۃ وغیرہ میں کی جائے گی کیونکہ یہ عبادت میں خیانت ہے اور اس میں اﷲ کا حق مارنا ہے اور فقیر وں کو ان کے حق سے محروم کرنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یَّغْلُلْ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ"۔خیال رہے کہ مَافَوْقَہٗ سے مراد یا سوئی سےکم چیز ہے یا سوئی سے زیادہ۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1781 -[10]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ) كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَقَالَ عُمَرُ أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ فَانْطَلَقَ. فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قد كبر على أَصْحَابك هَذِه الْآيَة. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لم يفْرض الزَّكَاة إِلَّا ليطيب بهَا مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ وَذكر كلمة لتَكون لمن بعدكم» قَالَ فَكَبَّرَ عُمَرُ. ثُمَّ قَالَ لَهُ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حفظته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں،الایۃ۔تو مسلمانوں پر بہت بھاری پڑا ۱؎ تو حضرت عمر بولے کہ تمہاری اس تنگی کو میں کھولتا ہوں ۲؎ آپ چلےعرض کیا یا نبی اﷲ یہ آیت حضور کے صحابہ پر بھاری ہے حضور نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے زکوۃ اس ہی لیے فرض فرمائی کہ تمہارے باقی مالوں کو پاک کردے ۳؎ اور میراثیں اسی ہی لیے فرض فرمائیں(اور کچھ کلام کیا)تاکہ وہ پاک مال تمہارے بعد والوں کا ہو۴؎ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے تکبیر کہی ۵؎ پھرحضور نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ بہترین چیز نہ بتاؤں جو آدمی جمع کرے وہ اچھی بیوی ہے کہ جب اسے دیکھے تو پسند آئے اور جب اسے حکم دے تو وہ فرماں برداری کرے اور جب مرد غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے۶؎(ابوداؤد)

۱؎ کیونکہ مسلمانوں نے کنز کے لغوی معنے مراد لیے یعنی مطلقًا جمع کرنا اور یہ سمجھے کہ سونے چاندی کو جمع کرنا بہرحال حرام ہے اور قیامت کے دن داغ کا باعث ہے حالانکہ بغیر کچھ جمع کئے دنیوی کاروبار نہیں چل سکتے۔

۲؎ یعنی آیت کے ظاہری معنے مراد نہیں ہوسکتے کیونکہ اسلام درمیانی دین ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین اور قرآن کریم میانہ روی سکھانے والی کتاب،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس دین میں مال جمع کرنا مطلقًا حرام ہوجائے پھر جہاد کیسے ہونگے اور زکوۃ کس چیز کی دی جائے گی ہماری سمجھ میں غلطی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To