We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

الفصل الثانی

دوسری فصل

2091 -[9]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: " قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعَفُ عَنِّي ". رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ فرمائیے اگر میں جان لوں کہ شب قدر کون سی رات ہے تو اس میں کیا پڑھوں ۱؎ فرمایا یہ عرض کرو الٰہی تو معاف فرمانے والا ہے معافی پسند کرتا ہے مجھے معافی دے دے ۲؎ (احمد، ابن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔

۱؎ یعنی اگر کبھی میری آنکھوں سے حجاب اٹھ جائیں اور میں شجروحجر کو سجدہ کرتے،فرشتوں کو اترتے،شب قدر کا نور پھیلتے،روح فرشتہ کو زمین پر آتے دیکھوں جس سے معلوم کرلوں کہ یہ شبقدر ہے تو میں اس میں دعا کیا مانگوں۔معلوم ہوا کہ بعض اولیاء کبھی شبقدر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں مگر انہیں بھی چھپانے کا حکم ہے کہ شب قدر کو چھپانا سنت ہے۔(مرقاۃ)

۲؎  یہ دعا مختصر ہے اور بہت جامع ہے کیونکہ جب رب تعالٰی نے بندے کو معافی دے دی تو سب کچھ دے دیا۔خیال رہے کہ گنہگار گناہوں سے معافی مانگتے ہیں اور نیک کار نیکی کرکے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں کہ خداوند تیری بارگاہ کے لائق نیکی نہ ہوسکی تو معاف فرمانے والا ہے معافی پسند کرتا ہے مجھے معافی دے دے۔شعر

زاہداں از گناہ توبہ کنند                                              عارفاں از اطاعت استغفار

حضرت عائشہ صدیقہ رب تعالٰی کے فضل سے گناہوں سے محفوظ ہیں،پھر بھی معافی مانگنے کا حکم دیا گیا، گناہوں سے معافی نہیں بلکہ وہ معافی جو عرض کی گئی۔

2092 -[10]

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْتَمِسُوهَا يَعْنَى لَيْلَة الْقدر فِي تسع بَقينَ أَو فِي سبع بَقينَ أَو فِي خمس بَقينَ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ رات یعنی شبِ قدر ڈھونڈو جب نو دن باقی رہیں یا سات دن باقی رہیں یا پانچ دن باقی رہے یا تین دن یا آخری رات ۱؎(ترمذی)

۱؎ یعنی شبِ قدر کو اکیسویں رمضان یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا انتیسویں کی راتوں میں تلاش کرو۔اس کی تحقیق ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ عرب میں کبھی آخر ماہ سے حساب لگاتے ہیں۔وہاں یبقین یا بقیت کہہ دیتے ہیں اور یہ حساب اس حساب سے ہے کہ رمضان تیس دن کا ہو۔

2093 -[11]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: «هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَقَالَ:رَوَاهُ سُفْيَان وَشعْبَة عَن أبي إِسْحَق مَوْقُوفا على ابْن عمر

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا وہ ہر رمضان میں ہوتی ہے ۱؎ (ابوداؤد)اور ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث سفیان و شعبہ نے ابو اسحاق سے حضرت ابن عمر پرموقوف روایت کی۔

 



Total Pages: 441

Go To