Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

اور بہت سے معنے کئے ہیں کہ سابعہ سے ستائیسویں شب مراد ہے،تاسعہ سے انتیسویں اور خامسہ سے پچیسویں مگر فقیر نے جو معنی کئے آسان تر ہیں۔واﷲ ورسولہ اعلم! اس افصح الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا آسان نہیں۔

2086 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأسه. فَقَالَ: «إِنِّي اعتكفت الْعشْر الأول ألتمس هَذِه اللَّيْلَة ثمَّ اعتكفت الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعشْر الْأَوَاخِر فَمن اعْتَكَفْ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ فَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ» . قَالَ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَبَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ المَاء والطين وَالْمَاء مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ فِي الْمَعْنَى وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ إِلَى قَوْلِهِ: " فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعشْر الْأَوَاخِر ". وَالْبَاقِي للْبُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا ۱؎ پھر ترکی خیمہ کے اندر درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا ۲؎ پھر سر مبارک خیمہ سے نکال کر فرمایا کہ ہم نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرہ کا اعتکاف کیا پھر درمیانی عشرہ کا اعتکاف کیا ۳؎ پھر ہمارے پاس آنے والا آیا اور مجھے بتایا گیا کہ وہ رات آخری عشرہ میں ہے۴؎ تو جس نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ آخری عشرہ کا بھی اعتکاف کرے ۵؎ مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ۶؎ میں نے اس رات کی سویرے اپنے کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا ہے ۷؎ لہذا تم اسے آخری عشرہ میں ڈھونڈو ہر طاق تاریخ میں  تلاش کرو ۸؎  راوی فرماتے ہیں کہ اس نے بارش دیکھی اور مسجد پر چھپر تھا ۹؎ چنانچہ مسجد ٹپکی اور میری آنکھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیسویں کے سویرے دیکھا کہ آپ کی پیشانی پاک پر کیچڑ کا اثر تھا ۱۰؎ مسلم،بخاری معنے اور لفظ مسلم کے ہیں اس مضمون تک کہ مجھے بتایا گیا وہ آخری عشرہ میں ہے باقی بخاری میں ہے۔

۱؎ یہاں اول واو کے شد سے بھی ہوسکتا ہے تفعیل کا واحد مذکر کیونکہ لفظ عشر واحد بھی ہے مذکر بھی اور ہمزہ کے پیش واؤ کے زبر سے بھی اولیٰ کی جمع کیونکہ عشر معنے کے لحاظ سے مونث ہے اور جمع ہے،پہلی قرأت زیادہ مشہور ہے اگلا جملہ بھی اس کی تائید کررہا ہے کہ اس میں اوسط واحد مذکر آیا ہے یعنی نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا۔

۲؎ اس خیمہ کو عربی میں خرتان کہتے ہیں اور فارسی میں خرکاء۔یہ نمدہ یا کمبل کا چھوٹا سا گول خیمہ ہوتا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے مسجد میں لگایا گیا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ معتکف مسجد میں اپنے لیے جگہ خاص کرلیتا ہے جہاں چادر وغیرہ تان لے جس میں بغیر اجازت کوئی نہ آسکے۔

۳؎ اس وقت تک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ قدر کی اطلاع نہیں دی گئی تھی،آپ نے صرف اجتہاد سے یہ تلاش فرمائی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے بھی علم تھا کہ شب قدر رمضان ہی میں ہے دوسرے مہینوں میں نہیں،یہ حدیث ان بزرگوں کے خلاف ہوگی جو کہتے ہیں کہ شبِ قدر سال بھر میں کبھی ہوجاتی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To