We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب

باب   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ چونکہ اس باب میں گزشتہ بابوں کے متعلق مختلف مضامین بیان ہوں گے نفلی روزے،روزہ رکھ کر توڑ دینا،روزے کی قضا وغیرہ اس لیے مصنف نے اس کا ترجمہ یا عنوان قائم نہ فرمایا گویا یہ باب المتفرقات ہے۔

2076 -[1]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» فَقُلْنَا: لَا قَالَ: «فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ» . ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ: «أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا» فَأَكَلَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ہم نے عرض کیا نہیں ۱؎ فرمایا تو اچھا ہمارا روزہ ہے ۲؎ پھر دوسرے اور دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ ہمیں ہدیۃ آیا ہے۳؎ فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے تو آج روزہ دار ہو کر صبح کی تھی پھر آپ نے کھالیا ۴؎(مسلم)

۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوال تمام ازواج پاک سے تھا اور یہ جواب بھی سب کی طرف سے ہوا یعنی نو ازواج میں سے کسی کے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں جو مالک کونین ہے ان کے اپنے گھر کا یہ حال ہے۔شعر

 مالک  کونین  ہیں گو پاس کچھ  رکھتے  نہیں                دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقر و فاقہ اختیاری ہے،فرماتے ہیں اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں۔

۲؎ یعنی چونکہ آج گھر میں کچھ کھانے کو نہیں لہذا ہم اب اس وقت سے روزہ نفلی کی نیت کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ روزے نفل کی نیت ضحوی کبرےٰ یعنی نصف نہارشرعی سے پہلے پہلے ہوسکتی ہے رات سے ہونا ضروری نہیں۔مصنف اسی مقصد کے لیے یہ حدیث یہاں لائے۔

۳؎  یعنی کسی شخص نے کھجور کا حلوہ بطور ہدیہ بھیجا ہے حضور ملاحظہ فرمائیں۔عربی میں حیس کے معنی ہیں خلط یا مخلوط چیز۔اصطلاح میں یہ ایک حلوہ ہے جو مکھن،پنیر،کھجور سے یا آٹے،مکھن اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔حریسہ اس سے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔فقیر نے مدینہ طیبہ میں حیس بھی کھایا ہے اور حریسہ بھی۔

۴؎ یہ صورت پہلے کا عکس ہوئی کہ وہاں تو گھر میں کھانا نہ ہونے کی وجہ سے روزے کی نیت کرلی گئی تھی اور یہاں کھانا دیکھ کر رکھا ہوا نفلی روزہ توڑ دیا گیا،ہمارے امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ نفلی روزہ یا نماز شروع کرنے سے واجب ہوجاتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا ضروری ہوتاہے کیونکہ رب تعالٰی نے فرمایاہے: "لَا تُبْطِلُوۡۤا اَعْمٰلَکُمْ"اور فرماتاہے:"فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا"یعنی اہل کتاب نے نیک اعمال شروع کیے انہیں نبھایا نہیں۔معلوم ہوا کہ نیکی شروع کرکے پوری کرنا واجب ہے۔اگر کوئی شخص نفلی روزہ شروع کرکے توڑ دے تو اس کی قضاء واجب ہے ان دو گزشتہ آیتوں کی وجہ سے اور اس حدیث کی وجہ سے جو بروایت حضرت عائشہ صدیقہ آگے آرہی ہیں اور نفلی حج و عمرہ پر قیاس کی وجہ سے کہ یہ دونوں چیزیں احرام باندھتے ہی



Total Pages: 441

Go To