Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2073 -[38]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ. فَقَالَ: " إِنَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ يَغْفِرُ اللَّهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ إِلَّا ذَا هَاجِرَيْنِ يَقُولُ:دَعْهُمَا حَتَّى يصطلحا".رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن روزے رکھتے تھے عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں تو فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن اللہ تعالٰی سوائے عداوت والوں کے باقی سب مسلمانوں کو بخش دیتا ہے ۱؎ ان کے متعلق فرمایا ہے انہیں چھوڑ دو حتی کہ آپس میں صلح کرلیں ۲؎(احمد،ابن ماجہ)

۱؎  سبحان اﷲ! یہ دونوں دن بڑی عظمت اور برکت والے ہیں کیوں نہ ہوں کہ انہیں عظمت والوں سے نسبت ہے،جمعرات تو جمعہ کا پڑوسی ہے اور حضرت آمنہ خاتون کے حاملہ ہونے کا دن ہے اور پیر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن بھی ہے اور نزول قرآن کریم کا بھی جیساکہ پہلے گزر چکا۔بخاری شریف میں ہے کہ ایک صحابی(حضرت عباس رضی اللہ عنہ)نے ابولہب کو اس کے مرنے کے بعد خواب میں دیکھا،پوچھا کیا حال ہے بولاسخت عذاب میں گرفتار ہوں مگر پیر کے دن میرا عذاب کچھ ہلکا ہوتا ہے اور اپنے داہنے ہاتھ کی پہلی انگلی سے مجھے پانی ملتا ہے کیونکہ میں نے اس دن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو اس انگلی کے اشارے سے کہا تھا جا تو آزاد ہے۔سبحان اﷲ! تاقیامت ان دو دنوں میں اﷲ کے فضل سے ہم گنہگار بخشش اور مغفرت کی مٹھائیاں لیتے رہیں گے۔شعر

بزرگوں سے نسبت بڑی چیز ہے                              خدا کی یہ نعمت بڑی چیز ہے

یہاں مرقات نے فرمایا کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پیر و جمعرات کے دن ان مسلمانوں کی بخشش ہوتی ہے جو ان دنوں میں روزہ رکھنے کے عادی ہیں۔

۲؎  یہ خطاب کہ انہیں چھوڑ دو یا تو اس فرشتے سے ہوتا ہے  جو اعمال کے رجسٹروں سے لوگوں کے گناہ مٹانے پر مقرر ہے یا ان لوگوں سے ہوتا ہے جو ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔(مرقات،اشعہ)یعنی ابھی ان کے گناہ باقی رہنے دو جب تک کہ یہ آپس میں صلح نہ کرلیں۔عداوت سے مراد دنیاوی عداوتیں ہیں جو جائداد مال وغیرہ کے باعث ہوں دینی عداوتیں تو عبادت ہیں ،ہر مسلمان ہر کافر سے عداوت رکھے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ مِنْ اَزْوٰجِکُمْ وَ اَوْلٰدِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوۡہُمْ"۔اس معلوم ہوا کہ مسلمان سے کینہ و عداوت اللہ تعالٰی کی بڑی رحمت سے محرومی کا باعث ہے،سینہ پاک رکھو تاکہ اس میں مدینہ کے انوار دیکھو،گندی تختی پر حرف کندہ نہیں ہوتے۔

2074 -[39]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ بَعَّدَهُ اللَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَبُعْدِ غُرَابٍ طَائِرٍ وَهُوَ فرخ حَتَّى مَاتَ هرما» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رضائے الٰہی کی تلاش میں ایک دن روزہ رکھے ۱؎ تو اﷲ اسے دوزخ سے اتنا دور کردے گا جیسے اُڑنے والے کوّے کی دوری جب وہ بچہ ہو حتی کہ بوڑھا ہوکر مرجائے ۲؎(احمد)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ اس روزے سے مراد نفلی روزہ ہے اسی لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث نفلی روزوں کے باب میں لائے۔تلاش رضاء الٰہی کی قید اس لیے ہے کہ کوئی عمل بغیر اخلاص نہ قبول ہو،نہ اس کا کوئی ثواب،نہ اس کے فوائد کا ظہور ہو۔اس میں اشارۃً بتایا جارہا ہے کہ جب ایک نفلی روزے کے ثواب کا یہ حال ہے تو اندازہ لگالو کہ فرضی روزے کا ثواب کتنا ہوگا۔

۲؎ کوّے کی طبعی عمر ایک ہزار سال ہے۔(مرقات)اور یہ بہت تیز اُڑتا ہے،یہاں دوزخ سے انتہائی دوری بتانے کے لیے بطور تمثیل ارشاد ہوا کہ کوّے کا بچہ اگر پیدا ہوتے ہی اُڑنا شروع کردے اور مرتے دم یعنی ایک ہزار سال تک برابر اڑتا رہے تو اندازہ لگالو کہ



Total Pages: 441

Go To