We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ یعنی پانچ سو سال کی راہ اس سے پہلے ستر سال کی راہ کا فاصلہ بھی آچکا ہے مگر ان میں آپس میں تعارض نہیں کیونکہ اخلاص کے فرق سے ثواب میں فرق ہوجاتا ہے۔خندق فرماکر اس جانب اشارہ فرمایا گیا کہ ان شاءاﷲ اس تک آگ تو کیا آگ کی تپش بھی نہ پہنچ سکے گی جیسے اتنی لمبی چوڑی خندق پھلانگ کر دشمن نہیں پہنچ سکتا۔

2065 -[30]

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الشِّتَاءِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسل

روایت ہے حضرت عامر ابن مسعود سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈی غنیمت جاڑوں کے روزے ہیں ۲؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث مرسل ہے ۳؎

۱؎ ان کے نام اور ان کی صحابیت میں بڑا اختلاف ہے بعض نے کہا کہ یہ عامر ابن عبداﷲ ابن مسعود ہیں،تابعی ہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ عامر ابن مسعود ابن امیہ ابن خلف جمعی ہیں،یعنی صفوان ابن امیہ کے بھتیجے۔حق یہی ہے کہ آپ صحابی نہیں تابعی ہیں۔

۲؎ جن میں تکلیف بہت کم اور اصل روزے کا ثواب پورا جیسے جہاد میں دشمن بغیر مقابلہ بھاگ جائے اور سردی کا موسم بھی ہو کہ غازی بلا تکلیف ثواب اور غنیمت لے آتا ہے،سردی کے رمضان کا بھی یہی حال ہے۔خیال رہے کہ یہ اصل ثواب میں گفتگو ہے ورنہ گرمی کے روزوں میں زیادہ مشقت کا ثواب بھی ملے گا اسی لیے حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے تین چیزیں بڑی پیاری ہیں:اکرام الضیف،صیام الصیف،جہاد بالسیف،مہمان کی خدمت،گرمی کے روزے،تلوار سے جہاد۔

۳؎ کیونکہ عامر ابن مسعود نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نہ پائی۔خیال رہے کہ آپ ابراہیم ابن عامر قرشی کے والد ہیں اور آپ کی اس کے سواء کوئی حدیث نہیں۔

2066 -[31]

وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أحب إِلَى الله» فِي بَاب الْأُضْحِية

اور حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث ما من ایام الحدیث قربانی کے باب میں ذکر ہوچکی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2067 -[32] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةِ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْيَوْمُ -[639]- الَّذِي تَصُومُونَهُ؟» فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ: أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ» فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بصيامه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورے کے دن روزہ رکھتے پایا ۱؎ ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیسا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو ۲؎ وہ بولے یہ وہ عظمت والا دن ہے جس میں اﷲ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبویا،موسیٰ علیہ السلام نے شکریہ میں روزہ رکھا ہم بھی رکھتے ہیں۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۴؎  چنانچہ یہ روزہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکھا ۵؎ اور اس روزہ کا حکم بھی دیا ۶؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To