Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1779 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أبي حميد السَّاعِدِيّ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الأزد يُقَال لَهُ ابْن اللتبية الأتبية عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأثْنى عَلَيْهِ وَقَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْكُمْ عَلَى أُمُور مِمَّا ولاني الله فَيَأْتِي أحدكُم فَيَقُول: هَذَا لكم وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ بَيْتِ أُمِّهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقْرًا لَهُ خُوَارٌ أَوْ شَاة تَيْعر " ثمَّ رفع يَدَيْهِ حَتَّى رَأينَا عفرتي إِبِطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللَّهُمَّ هَل بلغت» . . قَالَ الْخَطَّابِيُّ: وَفِي قَوْلِهِ: «هَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أُمِّهِ أَوْ أَبِيهِ فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا؟» دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ كُلَّ أَمْرٍ يُتَذَرَّعُ بِهِ إِلَى مَحْظُورٍ فَهُوَ مَحْظُورٌ وَكُلُّ دخل فِي الْعُقُودِ يُنْظَرُ هَلْ يَكُونُ حُكْمُهُ عِنْدَ الِانْفِرَادِ كَحُكْمِهِ عِنْدَ الِاقْتِرَانِ أَمْ لَا؟ هَكَذَا فِي شرح السّنة

روایت ہے حضرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جنہیں ابن لتبیہ کہاجاتا تھا صدقہ پر عامل بنایا ۱؎ جب وہ واپس ہوئے تو بولے یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیۃً دیا گیا۲؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اﷲ کی حمدوثناء کی پھر فرمایا حمدوثناء کے بعد سنو کہ ہم تم میں سے بعض کو ان چیزوں پر عامل بناتے ہیں جن کا اللہ نے ہمیں والی بنایا۳؎ تو ان میں سے بعض آکر کہتے ہیں کہ یہ تمہاراہے اور یہ مجھے ہدیہ نذرانہ دیا گیا تو وہ اپنے ابا اماں کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا پھر دیکھتا کہ اسے نذرانہ ملتا ہے یا نہیں۴؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی شخص اس میں سے کچھ نہ لے گا مگر قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کے لائے گا ۵؎ اگر اونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوگا یا گائے ہے تو وہ چیختی ہوگی یا بکری کہ ممیاتی ہوگی ۶؎ پھرحضور نے اپنے ہاتھ اٹھائے حتی کہ ہم نے حضور کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر عرض کیا الٰہی کیا میں نے تبلیغ کردی اے مولیٰ کیا میں نے تبلیغ کردی۷؎ (مسلم،بخاری)خطابی نے فرمایا کہ حضور انور کے اس فرمان میں کہ وہ اپنی ماں کے گھر یا باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ رہا کہ دیکھتا کیا اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں اس کی دلیل ہے کہ جسے ممنوع کام کا ذریعہ بنایا جائے وہ بھی ممنوع ہے۸؎ اور جو چیز عقدوں میں داخل ہو اس میں غور کیا جائے کہ آیا اس کا علیحدہ کا حکم دوسرے سے ملنے کے حکم کی طرح ہے یا نہیں ۹؎ شرح سنہ میں یوں ہی ہے۔

۱؎ ان صاحب کا نام عبداﷲ ہے،قبیلہ بنی لتب کے ہیں جو قحطان کا مشہور قبیلہ ہے۔(مرقات ولمعات)

۲؎ یعنی ان کے پاس وصول کردہ زکوۃ سے زیادہ مال تھا جو زکوۃ دینے والوں نے انہیں بطور ہدیہ علاوۂ زکوۃ دیا تھا۔یہ ان صحابی کی انتہائی دیانتداری ہے کہ اس ہدیہ کو گھر نہ رکھ گئے سب کچھ بارگاہ شریف میں پیش کردیا اور اصل واقعہ بیان کردیا۔

۳؎ یعنی صدقات و زکوۃ وصول کرنا ہمارے ذمہ ہے تم لوگ ہمارے نائب ہوکر جاتے ہو اور ہمیں تو صدقہ دینے والوں سے ہدیہ لینا منع ہے تو تمہیں کیوں جائز ہوگا۔

۴؎ یعنی یہ نذرانہ نہیں ہے بلکہ رشوت ہے کہ اس کے ذریعہ صاحب نصاب آئندہ اصل زکوۃ سے کچھ کم کرانے کی کوشش کریں گے، نیز جب اس کام کی اجرت پوری ہم دیتے ہیں تو یہ ہدیہ کیا چیز ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ حکام کے نذرانے اور خاص دعوتیں رشوت ہیں،ہاں حاکم عام دعوت ولیمہ وغیرہ کھا سکتا ہے،نیز جو نذرانے، ہدیہ اور ڈالیاں اس کے حاکم بننے کے بعد شروع ہوں وہ سب



Total Pages: 441

Go To