We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۷؎  یہ جملہ قرآن کریم کے تیس پارے بنانے کی اصل ہے،زمانہ نبوی میں قرآن کریم کی تقسیم سورتوں اور منزلوں پرتھی رکوع اور پاروں پر نہ تھی،پھر خلافت عثمانیہ میں اس میں رکوع قائم کئے گئے کہ حضرت عثمان غنی تراویح کی رکعتوں میں جس قدر تلاوت کرکے رکوع فرماتے اس کا نام رکوع رکھا گیا اور حاشیہ پر  ع کا نشان لگایا گیا تاکہ تراویح کا باقاعدہ رواج دینے والے جناب عمر اور اس رواج کو تمام دنیا میں پھیلانے والے حضرت عثمان کی طرف اشارہ ہو،تراویح روزانہ بیس رکعت ہوتی تھیں اور ستائیسویں شب کو ختم قرآن اس لیے قرآن کریم کے پانچ سو چالیس رکوع ہوئے،بہت عرصہ بعد قرآن کریم کے تیس پارے کئے گئے تاکہ روزانہ تلاوت کرنے والوں کو آسانی رہے کہ وہ اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے ہرمہینہ ایک قرآن ختم کرلیا کریں۔

 ۸؎ لہذا مجھے زیادہ عبادت کی اجازت دیجئے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت سے ان کے لیے اتنے نوافل اور روزے ناجائز ہوگئے تھے اس لیے آپ خوشامدکرکے زیادہ کی اجازت حاصل کررہے ہیں۔اس سے جہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات خداداد معلوم ہوئے وہاں ہی صحابہ کا شوق عبادت بھی ظاہر ہوگیا،اﷲ ان بزرگوں کے طفیل ہمیں بھی عبادت کا شوق دے۔

۹؎ کہ روزانہ فمی بشوق کی ترتیب پر ایک منزل پڑھو تاکہ ہفتہ میں ایک قرآن ختم ہو۔ابھی عرض کیا جاچکا کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو حضرت عبداﷲ ابن عمرو جیسی طاقت رکھتے ہوں،ان سے کمزور مہینہ میں ختم کریں اور ان سے زیادہ قوی ہفتہ سے کم میں بھی ختم کرسکتے ہیں،ایک مہینہ میں بھی ختم نہ کرنا بڑی محرومی ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2055 -[20]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ۱؎(ترمذی نسائی)

۱؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جمعرات اور پیر کے دن نفلی روزے رکھتے تھے اس کی وجہ اگلی حدیث میں آرہی ہے۔پیر کو یوم الاثنین غالبًا اس لیے کہتے ہیں کہ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے اور حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم     ع     بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔بعض نے کہا کہ عرب میں ہفتہ اتوار سے شروع ہوتا ہے لہذا اتوارا پہلا دن ہوا اور پیر دوسرا اور جمعرات پانچواں مگر علماء کا قول یہ ہے کہ ہفتہ سنیچر سے شروع ہوتا ہے۔(مرقات)احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہفتہ کا پہلا دن جمعہ ہے کہ اس دن ہی پیدائش عالم کی ابتداء پڑی۔واﷲ اعلم!

2056 -[21]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اعمال پیر و جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں ۱؎ لہذا میں چاہتاہوں کہ میرے عمل اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزہ والا ہوں۲؎(ترمذی)

 



Total Pages: 441

Go To