Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

گئی مگر سنیت اور استحباب اب بھی باقی ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صوم عاشورہ کا افضل اور یوم عرفہ کا افضل یعنی نویں ذی الحجہ کہ وہ حج کا دن ہے لہذا یہ حدیث عرفہ کی افضلیت کی حدیث کے خلاف نہیں۔

2041 -[6]

وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حِينَ صَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ يُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأصومن التَّاسِع» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم دیا ۱؎ تو صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہ وہ دن ہے جس کی یہود و عیسائی تعظیم کرتے ہیں ۲؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ہم سال آئندہ زندہ رہے تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے ۳؎(مسلم)

۱؎ پہلے وجوبی حکم دیا اور فرضیت رمضان کے بعد استحبابی۔واقعہ یہ ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد ہجر ت یہود مدینہ کو روزہ رکھتے پایا ان سے اس کی وجہ پوچھی وہ بولے کہ اس دن اﷲ تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی کہ اسے غرق کیا،سرکار نے فرمایا"نَحْنُ اَحَقُّ بِمُوْسٰی مِنْکُمْ"بمقابلہ تمہارے موسیٰ علیہ السلام کا ہم پر زیادہ حق ہے یہ فرماکر عاشورہ کا روزہ مسلمانوں پر فرض کردیا،پھر روزہ رمضان سے اس کی فرضیت تو منسوخ ہوگئی مگر حضور استحبابًا خودبھی یہ روزہ رکھتے رہے اور صحابہ کو بھی حکم دیتے رہے تب وہ واقعہ پیش آیا جو یہاں مذکور ہے۔

۲؎ لہذا اگر ہم بھی عاشورے کی تعظیم کریں گے تو اہل کتاب سے مشابہت ہوجائے گی اور کفار سے مشابہت اسلام میں حرام ہے،یہ عرض معروض    ۱۰ ھ؁ میں ہوئی۔(مرقات)

۳؎ یعنی یہود و نصاریٰ کی مشابہت سے اس طرح بچ جائیں گے کہ وہ صرف عاشورے کا ایک روزہ رکھتے ہیں اور ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھ کر دو کرلیا کریں گے یعنی مشابہت کے خوف سے نیکی بند نہ کریں گے بلکہ اس میں زیادتی کرکے فرق کر دیا کریں گے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال تک تشریف فرما نہ رہے بلکہ اسی سال ربیع الاول میں وفات پا گئے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ اب سنت یہی ہے کہ عاشورے کے دو روزے رکھے،سنت قولی تو صراحۃً ہے اور سنت فعلی ارادۃً۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنا شرک یا حرام نہیں بلکہ رکن اسلام ہے۔نماز پنجگانہ کی رکعتیں بقرعید کی نماز و قربانی اور حج کے سارے ارکان یادگار انبیاء ہی ہیں(علیہم السلام)دیکھو ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول لہذا عرس،میلاد شریف، گیارہویں پاک سب افضل چیزیں ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم باذن الٰہی احکام کے مالک و مختار ہیں،عاشورے کے روزےکی کوئی آیت موجود نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب چاہا فرض ہوگیا اور جب چاہا مستحب رہ گیا۔تیسرے یہ کہ حدیث قرآن سے منسوخ ہوسکتی ہے،دیکھو عاشورے کا روزہ حدیث سے ثابت تھا اور اس کا نسخ رمضان سے ہوا جو قرآن سے ثابت ہے۔ چوتھے یہ کہ کفار سے ہر تشبہ برا نہیں بلکہ بری باتوں میں یا ان چیزوں میں تشبہ حرام ہے جسے اسلام نے ان کا قومی یا مذہبی نشان قرار دیا ہو۔ تشبہ اور اشتراک میں بڑا فرق ہے،دیکھو     ۱۰ ھ؁  تک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورے کا ایک ہی روزہ رکھا اور صحابہ کے عرض کرنے پر بھی اس روزے کو حرام نہ کہا۔پانچویں یہ کہ تھوڑے فرق سے تشبہ اٹھ جاتا ہے، تشبہ کے بہانے سے عبادات بند نہ کرو۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو میلاد شریف کو کنہیا جنم سے اور نیاز فاتحہ کوکناگتوں سے تشبیہ دے کر حرام کہتے ہیں،اﷲ سچی سمجھ عطا فرمائے۔چھٹے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات کا علم تھا کہ اس سال ہوجائے گی اسی لیے صرف



Total Pages: 441

Go To