Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2037 -[2]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُوم شهرا كُله؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مضى لسبيله. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شقیق سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ کیا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ کے پورے روزے بھی رکھتے تھے ۱؎ بولیں مجھے خبر نہیں کہ رمضان کے سواء کسی اور پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں یا کسی مہینہ کا پورا افطار کیا ہو ہر مہینہ میں کچھ روزے رکھتے تھے ۲؎ حتی کہ اپنی راہ تشریف لے گئے ۳؎ (مسلم)

۱؎ چونکہ حضرت عائشہ صدیقہ خصوصیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمدم و ہمراز تھیں اور آپ کے ہر حال پر نگاہ رکھتی تھیں، ساتھ ہی بڑی فقیہ و عالمہ بھی تھیں اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے اندرونی و بیرونی حالات زیادہ تر آپ ہی سے پوچھے جاتے تھے۔

۲؎ حَتّٰی یَصُوْمَ میں حَتّٰی بمعنی کے ہے یعنی کسی مہینہ میں سارا افطار اس لیے نہ کیا تاکہ ہر ماہ میں بعض دن روزے رکھناسنت ہوں اور ہوسکتا ہے کہ حَتّٰی انتہائے غایت کا ہومگر اس میں بہت تکلیف ہے۔(مرقات)

۳؎ یہ حَتّٰی تین جملوں کی انتہا ہے اور اپنی راہ تشریف لے جانے سے مراد وفات پاجاناہے۔

2038 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سَأَلَهُ أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَعِمْرَانَ يَسْمَعُ فَقَالَ: «يَا أَبَا فُلَانٍ أَمَا صُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ»

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا یا کسی اور سے پوچھا اور عمران سن رہے تھے تو حضور نے فرمایا اے ابو فلاں کیا تم نے آخر ماہ شعبان کے روزے نہ رکھے ۱؎ وہ بولے نہیں فرمایا جب یہ روزے رکھ چکو تو دو دن روزے رکھ لینا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ سرر اور اسرار مہینہ کے اول دنوں کو بھی کہتے ہیں،درمیانی کو بھی اور آخر کو بھی مگر زیادہ آخری رات کو کہاجاتا ہےکیونکہ اس میں چاند بالکل چھپا ہوتا ہے،بعض لوگوں نے یہاں اول یا درمیانی مہینہ مراد لیا ہے کیونکہ شعبان کی آخری تاریخ میں روزہ منع ہے جیساکہ گزرچکا مگر لمعات،اشعۃ اللمعات،مرقات وغیرہ نے فرمایا کہ یہاں آخری کے معنے ہی میں ہے یہ صاحب ہر مہینہ کے آخر روزہ رکھنے کے عادی تھے یا اس کی منت مان چکے تھے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سن کر انہوں نے شعبان کے آخر میں روزہ نہ رکھا تب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔

۲؎ یعنی ہماری ممانعت ان لوگوں کے لیے ہے جو صرف شعبان کے آخر میں روزے رکھیں،تم چونکہ ہر ماہ آخر میں دو روزوں کے عادی ہو یا نذر مان چکے ہو اس لیے تم بعدعید اس کے عوض دو روزے رکھ لینا۔(لمعات ومرقات)اس شرح سے حدیث بالکل واضح ہوگئی اور اس پرکوئی اعتراض نہ رہا۔

2039 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ».رَوَاهُ مُسلم

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رمضان کے بعد افضل روزے اﷲ کے مہینہ محرم کے ہیں ۱؎ اور فرض کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے ۲؎ (مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To