We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب صیام التطوع

باب نفلی روزے  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ تطوع طوع سے بنا،بمعنی رغبت و خوشی،رب فرماتاہے:"قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ"۔نفلی عبادات کو تطوع اس لیے کہا جاتا ہے کہ بندہ وہ کام اپنی خوشی سے کرتا ہے رب تعالٰی نے اس پر فرض نہ کی یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں مسلسل اتنے روزے رکھتے کہ ہم گمان کرتے یا اسے مخاطب تو گمان کرتا کہ آپ اس ماہ بالکل افطار نہ کریں گے اور کسی مہینہ میں مسلسل اتنا افطار فرماتے کہ معلوم ہوتا اس مہینہ میں آپ روزہ کوئی نہ رکھیں گے۔غرضکہ روزہ نفلی میں آپ ہمیشگی نہ کرتے تھے۔

2036 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتكْمل صِيَام شهر قطّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: كَانَ يَصُوم شعْبَان كُله وَكن يَصُوم شعْبَان إِلَّا قَلِيلا

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہتے حتی کہ ہم کہتے افطار نہ کریں گے اور افطار کرتے رہتے حتی کہ ہم کہتے روزے نہ رکھیں گے اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ سوائے رمضان کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ۱؎ اور میں نے حضور کو شعبان سے زیادہ کسی مہینہ میں روزے رکھتے نہ دیکھا ۲؎ ایک روایت میں یوں ہے فرماتی ہیں کہ قریبًا سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور بجز تھوڑے دنوں کے سارے شعبان کے روزے رکھتے ۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یہ کلی حکم ہے جس سے کوئی مہینہ مستثنٰی نہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے ماہ رمضان کسی مہینہ کے مکمل روزے کبھی نہ رکھے۔

۲؎ یعنی آپ رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں میں روزے ضرور رکھتے تھے مگر شعبان میں زیادہ رکھتے تھے۔فِیْ شَھْرٍ اَکْثَرَ کی ضمیر سے حال ہے اور فِیْ شَعْبَانِ مِنْہُ کی ضمیر سے حال یا یہ دونوں ظرف ہیں۔

۳؎ اس عبادت کا دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تفسیر ہے یعنی کل شعبان سے مراد قریبًا کل ہے،چونکہ شعبان رمضان کا پڑوسی ہے اس لیے وہ بھی حرمت والا ہے،نیز اس مہینہ میں رمضانی عبادات کی تیاری کرنا چاہئیے،اس لیے اس ماہ میں نفلی نماز روزے کثرت سے ادا کرنا بہتر ہے۔

2037 -[2]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُوم شهرا كُله؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مضى لسبيله. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن شقیق سے فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے کہا کہ کیا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ کے پورے روزے بھی رکھتے تھے ۱؎ بولیں مجھے خبر نہیں کہ رمضان کے سواء کسی اور پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں یا کسی مہینہ کا پورا افطار کیا ہو ہر مہینہ میں کچھ روزے رکھتے تھے ۲؎ حتی کہ اپنی راہ تشریف لے گئے ۳؎ (مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To