Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ اس حدیث کی تائید آیات قرآنیہ کررہی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور فرماتاہے:"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"۔جن سے معلوم ہوا کہ سعی اور کسب یعنی بدنی عبادات خود بندے ہی کو کرنا ہوں گی دوسرے سے نہیں کراسکتا۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں یا بعد موت کوئی شخص کسی کی طرف سے محض بدنی عبادتیں روزہ نماز وغیرہ نہیں ادا کرسکتا۔نسائی شریف میں حضرت ابن عباس سے بعینہ یہ فتویٰ نقل فرمایا،عبدالرزاق نے حضرت ابن عمر سے یہ قول نقل کیا،امام مالک نے فرمایا کہ میں نے کسی صحابی یا تابعی کے متعلق یہ نہ سنا کہ کسی نے کسی کی طرف سے نماز یا روزہ ادا کردینے کی اجازت دی ہو،یہ گفتگو نماز و روزے میں نیابت کے متعلق ہے۔رہا ان عبادات کا ثواب بخشنا وہ باتفاقِ اہلِ سنت بالکل جائزہے۔(مرقات)اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔


 



Total Pages: 441

Go To