We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2033 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ صَامَ عَنْهُ وليه»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مرگیا اور اس پر روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے ادا کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی جس شخص پر رمضان یا نذر کا روزہ قضا ہوگیا پھر اسے قضا کرنے کا موقعہ ملا مگر قضا نہ کیا کہ مرگیا تو اس کا ولی وارث اس کی طرف سے روزہ ادا کردے۔امام احمد کے ہاں اس طرح کہ روزے رکھ دے اور باقی تمام اماموں کے ہاں اس طرح کہ روزوں کا فدیہ دے دے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ رب تعالٰی فرماتا ہے: "وَعَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍ"جو روزہ کی طاقت نہ رکھیں ان پر فدیہ ہے اور میت بھی طاقت نہیں رکھتا۔دوسرے یہ کہ خود حدیث شریف میں صراحۃً وارد ہوا کہ"الا لایصومن احدٌ عن احد و لا یصلین احد عن احد"کوئی کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے جیساکہ آگے آرہا ہے۔تیسرے یہ کہ خود صحابہ کرام کا فتوےٰ یہ رہا کہ میت کی طرف سے روزوں کا فدیہ دیا جاوے روزہ رکھا نہ جائے،دیکھو مرقات۔چوتھے یہ کہ قیاس شرعی بھی یہ ہی چاہتاہے کیونکہ نماز بمقابلہ روزہ زیادہ اہم اور ضروری ہے مگر میت کی طرف سے کوئی نمازیں نہیں پڑھتا تو روزے کیسے رکھ سکتا ہے محض بدنی عبادت خودہی کرنی پڑتی ہے دوسرے سے نہیں کرائی جاتی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2034 -[5]

عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنه مَوْقُوف على ابْن عمر

 روایت ہے حضرت نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جو مرجائے اور اس پر ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن کی جگہ ایک مسکین کو کھلا دیا جائے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عمر پر موقوف ہے۲؎

۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے کہ وہاں ولی کے روزے رکھنے سے مرادحکمی روزہ تھا یعنی ادائے فدیہ۔فقہاء فرماتے ہیں کہ میت کی نمازوں کا بھی فدیہ دے دیا جائے کیونکہ نماز روزے سے زیادہ اہم ہے۔حیلہ اسقاط کی اصل یہ حدیث ہے۔اس حیلہ کی تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔

۲؎  اگرچہ حدیث موقوف ہی صحیح ہے مگر یہ موقوف حدیث مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ صحابہ کرام کے وہ اقوال جو عقل سے وراء ہوں وہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتے ہیں کہ صحابی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی یہ فرمایا ہے عقل کی اس میں گنجائش نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2035 -[6]

عَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ: هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ؟ فَيَقُولُ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ. وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أحد. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں روایت پہنچی کہ حضرت عمر سے پوچھا جاتا کہ کیا کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ دے یا نماز پڑھ دے تو فرماتے تھے کہ نہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ کسی کی طرف سے نماز پڑھے ۱؎(مؤطا)

 



Total Pages: 441

Go To