We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2026 -[8]

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبْعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ من حَيْثُ أدْركهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے پاس سواری ہو جو اسے بحالت سیری منزل تک پہنچادے ۲؎ وہ رمضان کے روزے رکھے جہاں پائے ۳؎ (ابوداؤد)۴؎

۱؎ آپ خود بھی صحابی ہیں اور آپ کے بیٹے سنان ابن سلمہ بھی صحابی،سنان بڑے پہلوان تھے،بہت سے غزوات میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

۲؎ یعنی آرام و آسائش سے منزل پر افطار سے پہلے پہنچ جائے یا اس کا سامان خورد و نوش ساتھ ہو تو وہ سفر میں روزہ قضا نہ کرے بلکہ تمام مسلمانوں کی موافقت میں روزے رکھے۔

۳؎ یہ حکم استحبابی ہے یعنی آرام کے سفر میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے قضا کردینا مناسب نہیں۔آج کل ریل و موٹر کے سفروں میں تو بہت آسانیاں ہیں ان سفروں میں روزہ رکھنا ہی اچھا ہے۔

۴؎ اس حدیث کی اسناد میں عبدالصمد ابن حبیب ازدی ہے اکثر محدثین کے ہاں قوی نہیں ہے لہذا یہ حدیث ضعیف ہے مگر فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے جیساکہ بار ہا عرض کیا گیا،یہاں بھی فضیلت عمل ہی کا ذکر ہے یعنی آسان سفر میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے لہذا قبول ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2027 -[9]

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ. فَقَالَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال رمضان میں مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوئے ۱؎ تو روزے رکھتے رہے حتی کہ کراع الغمیم پہنچ گئے ۲؎ لوگ بھی روزہ دار رہے پھر حضور نے پانی کا پیالہ منگایا اسے اٹھایا حتی کہ آپ کو لوگوں نے دیکھا پھر پیا ۳؎ اس کے بعد حضور سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھ لیا ۴؎ فرمایا یہ لوگ گنہگار ہیں یہ لوگ گنہگار ہیں ۵؎(مسلم)

۱؎ فتح مکہ کے لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی بھی رمضان میں اور فتح فرمانا بھی رمضان میں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔

۲؎ یہ مشہور جگہ ہے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے درمیان واقع ہے،عسفان سے تین میل فاصلہ پر،چونکہ اس جنگل کانقشہ بکری کی پنڈلی کی طرح ہے اس لیے اسے کراع کہا جاتاہے۔غمیم بمعنی جنگل یعنی بکری کی پنڈلی کے نمونہ کا جنگل۔

۳؎ یعنی آج تک روزہ رکھا آج سے افطار شروع فرمایا،یہ مطلب نہیں کہ آج روزہ رکھ کر توڑ دیا جیساکہ ظاہر ہے۔

۴؎ یعنی صحابہ کرام میں سے بعض نے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر عمل کرکے روزہ نہیں رکھا ہے اور بعض نے اس خیال سے رکھ لیا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا جائز ہے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ اس سفر میں اب سے روزہ نہ رکھنا سنت اور روزہ رکھنا خلاف سنت ہے۔غرضکہ ان سے خطائے اجتہادی واقع ہوئی۔

 



Total Pages: 441

Go To