We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۶؎ یعنی نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لیے۲ رمضان      ۸ھ؁  میں بعدعصر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ (مرقات)اور بیس رمضان کو مکہ معظمہ فتح ہوا،بعض مؤرخین نے دسویں۱۰  رمضان کو روانگی بیان کی ہے۔

۷؎ بعض شیعہ سفر میں روزہ مطلقًا ناجائز کہتے ہیں اور اس قول کو سیدنا عبداﷲ ابن عباس کیطرف منسوب کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں،حضرت ابن عبا س کا قول وہ ہے جو یہاں منقول ہوا۔

2024 -[6]

وَفِي رِوَايَة لمُسلم عَن جَابر رَضِي الله عَنهُ أَنه شرب بعد الْعَصْر

مسلم کی روایت میں حضرت جابر سے یوں ہے کہ آپ نے بعد عصر پانی پیا  ۱؎

۱؎  اس کا مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ سرکار نے اس دن روزہ رکھا ہی نہ تھا اس کا اظہار عصر کے بعد اس طرح کیا،یہ مطلب نہیں کہ روزہ رکھ کر توڑ دیا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پانی پینا ایک مسئلہ شرعیہ کی عملی تبلیغ تھی نہ کہ ماہ رمضان کی بے حرمتی۔

الفصل الثانی

دوسر ی فصل

2025 -[7]

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ وَالْحُبْلَى» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت انس ابن مالک کعبی سے  ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے مسافر سے آدھی نماز معاف فرمادی ۲؎ اور روزہ مسافر دودھ پلانے والی اور حاملہ سے ۳؎ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ یہ انس ابن مالک وہ مشہور انس نہیں جو ابوطلحہ انصاری کے سوتیلے بیٹے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم  کے خاص خادم ہیں وہ تو انصاری نجاری خزرجی ہیں،بہت سی احادیث کے راوی ہیں بلکہ یہ انس ابن مالک عبداﷲ ابن کعب کی اولاد سے ہیں اسی لیے کعبی کہلاتے ہیں،ان سے بہت ہی کم احادیث یعنی صرف یہ ہی مروی ہے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ بیس صحابہ کے نام انس ہیں جن میں سے دو کے نام انس ابن مالک ہیں:ایک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص بہت سی احادیث کے راوی، دوسرے یہ،ان کا قیام بصرہ میں رہا۔

۲؎ اس طرح کہ مسافر پر نماز میں قصر واجب ہے صرف جائز نہیں جیساکہ ہم مسافر کے باب میں ثابت کرچکے ہیں اور اپنی کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں بہت دلائل سے بیان کرچکے ہیں۔

۳؎ یعنی ان تین شخصوں سے روزہ کا فوری وجوب معاف ہوچکا ہے اگر چاہیں تو قضا کردیں۔خیال رہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت پر بھی روزے کی قضاء ہی واجب ہے وہ فدیہ نہیں دے سکتیں،یہ ہی ہم احناف کا مذہب ہے یہ دونوں اس حکم میں مسافر کی طرح ہیں،نیز ان دونوں عورتوں کو قضاء کی اجازت جب ہے جب کہ انہیں روزہ سے اپنے بچہ پر خوف ہو۔اشعہ نے فرمایا کہ مالدار عورت جس کا بچہ دودھ پیتا ہو وہ بچہ کے لیے دودھ پلائی رکھے اور خود روزہ رکھے۔

2026 -[8]

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبْعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ من حَيْثُ أدْركهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے پاس سواری ہو جو اسے بحالت سیری منزل تک پہنچادے ۲؎ وہ رمضان کے روزے رکھے جہاں پائے ۳؎ (ابوداؤد)۴؎

 



Total Pages: 441

Go To