We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  اور تمام وہ ضروری کام کئے جو سفروں میں عمومًا اور جہاد میں خصوصًا کئے جاتے ہیں لہذا یہ سارے کام ثواب ہیں۔

۳؎ ثواب سے مراد کامل ثواب ہے یعنی روزہ داروں نے تو روزوں کا ثواب پایا جسے یہ لوگ بھی بعد رمضان قضاء کرکے حاصل کرلیں گے مگر بے روزوں نے جہاد کی تیاری اور لشکر اسلام کی خدمت کرکے وہ ثواب کمالیاجس کی وہ قضاء نہ کرسکیں گے۔شعر

نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں                                                 نگاہوں کی قضا کب ادا ہوں

کیا تمہیں خبر نہیں کہ سیدنا علی مرتضٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند پر نماز عصر قضاءکردی۔خیال رہے کہ چونکہ یہ روزہ دار حضرات بقیہ صحابہ پر بوجھ نہ بنے اس لیے ان پر عتاب نہ فرمایا گیا۔

2023 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ. فَمن شَاءَ صَامَ وَمن شَاءَ أفطر "

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ معظمہ تشریف لے گئے ۱؎ تو روزے رکھتے رہے حتی کہ عسفان پہنچ گئے ۲؎ پھر پانی منگایا تو اسے اپنے ہاتھ میں اٹھایا ۳؎ تاکہ آپ کو لوگ دیکھ لیں۴؎ پھر افطار فرماتے رہے حتی کہ مکہ معظمہ آگئے ۵؎ اور یہ واقعہ رمضان میں تھا ۶؎ چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطارکرے ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎ فتح مکہ کے سال۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر اور فتح مکہ کے موقعوں پر رمضان میں سفر کیا ہے ان دو سفروں کے علاوہ اور کبھی رمضان میں سفر ثابت نہیں۔(مرقات)وہ جو روایتوں میں آتا ہے کہ ہم ایک بار سخت گرمی میں سفر جہاد میں تھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے سواء ہم میں کوئی روزہ دار نہ تھا وہاں رمضان کا ذکر نہیں۔

۲؎ عسفان مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے راستہ پر دوسری منزل ہے،مشہور جگہ ہے۔

۳؎ یہ الیٰ بمعنی فی ہے جیسے"لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ"اور ہوسکتا ہے کہ بمعنی مع ہوجیسے"مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللہِ"یا جیسے"لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَہُمْ اِلٰۤی اَمْوٰلِکُمْ اورممکن ہے کہ بمعنی عَلیٰ ہو اور ہوسکتا ہے کہ اپنے ہی معنے میں ہو یعنی انتہاء کے لیے اور اصل عبارت یوں ہو اِلٰی مَدِّیَدِہٖ یعنی پانی کا پیالہ اپنے ہاتھ میں اٹھایا اپنے ہاتھ پر یا دست مبارک کے ساتھ پیالہ بھی اوپر اٹھایا یا پیالہ ہاتھ میں لے کر ہاتھ پورا بلندکردیا،الحمدﷲ! عبارت میں کوئی اشکال نہ رہا۔

۴؎ یہ لوگوں کو دکھانا ماہ رمضان کی بے حرمتی کے لیے نہ تھا بلکہ لوگوں کو مسئلہ بتانے کے لیے کیونکہ وہاں سب ہی مسافر تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر راستہ میں مسافروں کے ساتھ رمضان میں علانیہ کھاسکتا ہے۔

۵؎ بعض شارحین نے اَفْطَرَ کے معنے یہ سمجھے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر توڑ دیا،اسی بنا پر انہوں نے فرمایا کہ مسافر کو رمضان میں روزہ رکھ کر توڑ دینا بھی جائز ہے مگر یہ غلط ہے۔اَفْطَرَ کے وہی معنے ہیں جو فقیر نے عرض کئے ورنہ ابھی حدیثوں میں گزر چکا کہ بعض صحابہ سفر جہاد میں روزہ کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر گئے،ان پر صحابہ نے سایہ تو کیا مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روزہ توڑنے کی اجازت نہ دی۔

 



Total Pages: 441

Go To