We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب صوم المسافر

باب مسافر کا روزہ  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  شریعت میں مسافر وہ ہے جو اپنے شہر سے تین منزل یعنی چھتیس کوس(۵۷میل)کے ارادہ سے نکلے پھر جب تک وہ گھر لوٹ نہ آئے یا کسی جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے مسافر ہی ہوگا کہ اس پر نماز میں قصر واجب ہوگا اور روزہ قضا کرنے کی اجازت ہوگی۔امام ابوحنیفہ،مالک،شافعی و ثوری رضی اللہ عنہم کے ہاں مسافر کو روزہ رکھنا بہتر ہے اور امام احمدو اوزاعی کے ہاں افطار بہتر،یہ عام حالات میں ہے بعض حالات میں اس پر افطار واجب ہوجاتاہے جیسے مسافر غازی جب روزہ کی وجہ سے بجائے جہاد کرنے کے دوسرے پر بوجھ بن جائیں۔(از لمعات)

2019 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ. فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَصم وَإِن شِئْت فَأفْطر»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ ابن عمر اسلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا میں سفر میں روزہ رکھوں وہ بہت روزے رکھتے تھے ۱؎ تو حضور نے فرمایا اگر چاہو روزہ رکھو اگر چاہو افطار کرو ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ آپ صائم الدھر یعنی ہمیشہ کے روزہ دار تھے چاہتے تھے کہ سفر میں بھی کبھی روزہ نہ چھوڑیں تب یہ سوال کیا سفر میں روزہ رکھنا گناہ تو نہیں شاید آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن چکے تھے کہ سفر میں روزہ اچھا نہیں اس لیے یہ سوال کیا۔

۲؎ اس جواب سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگرچہ مسافر کو روزہ رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر عام حالات میں روزہ رکھ لینا بہتر تاکہ عام مسلمانوں کی موافقت بھی ہوجائے اور رمضان کے بعد قضاء گراں بھی نہ پڑے کیونکہ سرکارصلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کا ذکر پہلے فرمایا۔خیال رہے کہ اگرچہ مسافر کو روزہ نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر ماہ رمضان کی بے حرمتی کرنے کا اختیار نہیں لہذا بازاروں میں علانیہ نہ کھائے پیئے،نہ سگریٹ پیتا پھرے بلکہ چھپ کر کچھ کھائے پیئے،حیض و نفاس والی عورتوں کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ چھپ کر کھائیں پئیں۔

2020 -[2]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا جب کہ ماہ رمضان کے سولہ دن گزر گئے تھے ۱؎ تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے افطار کیا تو نہ روزہ داروں نے بے روزوں کو عیب لگایا اور نہ بے روزوں نے روزہ داروں کو ۲؎ (مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To