We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

دیں اﷲ تعالٰی انہیں محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں مقبول عبادتوں کی توفیق دے،ہم کمزور ہیں نفس امارہ اور شیطان جیسے قوی دشمنوں میں گھرے ہیں،اے قوی وقادر ہمیں اپنی امان میں لے لے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

2015 -[17]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصَّائِمَ الْحِجَامَةُ وَالْقَيْءُ وَ الِاحْتِلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زيد الرَّاوِي يضعف فِي الحَدِيث

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزیں روزہ دار کا روزہ نہیں توڑتیں فصد،قے،احتلام ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غیر محفوظ ہے اورعبد الرحمن ابن زید راوی حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎

۱؎ اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔قے سے مراد وہ قے ہے جو خود بخود ہوجائے لہذا یہ حدیث گزشتہ اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں قے کو روزہ ٹوٹنے کا سبب قرار دیا گیا کیونکہ وہاں وہ قے مراد تھی جو خود کی جائے۔

۲؎ لہذا یہ شاذ بھی ہے اور ضعیف بھی۔خیال رہے کہ یہ حدیث صرف ترمذی کی اسناد میں ضعیف ہے اسے دار قطنی،بیہقی،ابوداؤد نے بھی روایت کیا،ابو حاتم نے کہا کہ ابوداؤد کی روایت اشبہ بالثواب ہے،ابو زرعہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت ہی صحیح ہے،بزار نے سیدنا عبداﷲ ابن عبا س سے اور طبرانی نے ثوبان سے مرفوعًا روایت کی،بزار نے فرمایا حدیث صحیح ہے۔           

2016 -[18]

وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ثابت بنانی سے ۱؎ فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں روزہ دار کے لیے فصد ناپسند کرتے تھی ۲؎ فرمایا نہیں مگر ضعف کی وجہ سے ۳؎(بخاری)

۱؎ آپ ثابت ابن اسلم مشہور تابعی ہیں،بصرہ کے علماء اعلام میں سے تھے،حضرت انس کے ساتھ چالیس سال رہے۔

۲؎ صحابہ کرام سے فصد کے متعلق یہ سوالات اس حدیث کی وجہ سے ہوتے تھے جو لوگوں میں مشہور ہوچکی تھی"اَفْطَرَالْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ"اس کا مطلب ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔

۳؎ یعنی چونکہ فصد لینے سے خون نکل جانے کے باعث آدمی کمزور پڑجاتا ہے ممکن ہے کہ روزہ پورا نہ کر سکے یا بہت تکلیف اٹھائے اس لیے روزے میں فصد بہتر نہ جانتے تھے اس حدیث نے گزشتہ حدیث"اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ"کی تفسیرکر دی جیساکہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں۔

2017 -[19]

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ

روایت ہے امام بخاری سے تعلیقًا ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر روزہ کی حالت میں فصد لیتے تھے پھر چھوڑ دی پھر رات میں فصد لیتے تھے ۲؎

 



Total Pages: 441

Go To