Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

2008 -[10]

وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: صَدَقَ وَأَنَا صَبَبْتُ لَهُ وضوءه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ ۱؎ سے کہ ابو الدرداء نے انہیں خبردی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطارکردیا۲؎ فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ حضرت ابوالدرداء نے مجھے خبر دی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطار فرمادیا فرمایا انہوں نے سچ کہا اور میں نے آپ  کے لیے وضو کا پانی انڈیلا۳؎(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)

۱؎ آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حضرت عمر حضرت ابوالدرداء و ثوبان سے احادیث روایت کرتے ہیں۔

۲؎ یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں عمدًا قے کی کسی ضرورت سے تو اسے روزے کا مفسد مانا جس کے بعد کھانا وغیرہ ملاحظہ فرمالیا۔

۳؎ حضرت ثوبان حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں،انہوں نے حضرت ابوالدرداء کی تصدیق فرماتے ہوئے اپنا واقعہ بیان فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کو ناقض وضو بھی قرار دیا۔چنانچہ آپ نے وضو کیا اور پانی میں نے حاضر کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ منہ بھرکر قے روزہ بھی توڑ دیتی ہے اور وضو بھی،یہ ہی ہمارا مذہب ہے یہ حدیث ہمارے امام اعظم قدس سرہ کی دلیل ہے،امام شافعی کے ہاں قے سے وضو نہیں ٹوٹتا وہ یہاں وضو سے مراد کلی کرنا لیتے ہیں مگر قول امام اعظم قوی تر ہے بلاوجہ شرعی معنی چھوڑنا کمزورسی بات ہے۔

2009 -[11]

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عامر ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار دفعہ روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)۲؎

۱؎ اس حدیث کی وجہ سے امام ابوحنیفہ و مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ روزے میں ہر وقت ہر قسم کی مسواک بلاکراہت جائز ہے زوال سے پہلے کرے یا بعد،تر مسواک کرے یا خشک،بہرحال بلاکراہت درست ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ روزے دار کی منہ کی بو اﷲ تعالٰی کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پیاری ہےکیونکہ وہاں لفظ خلوف ہے نہ کہ لفظ بخر۔خلوف منہ کی وہ بو ہے جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے منہ میں پیدا ہوجاتی ہے وہ مسواک سے نہیں جاتی جیساکہ بار ہا کا مشاہدہ ہے۔رہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا طور والا واقعہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیات سے ہے کہ آپ نے روزہ میں مسواک کرلی،پھر توریت لینے بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے تو ارشاد ہوا اے موسیٰ دس روزے اور رکھو تاکہ پھر وہ ہی مہک پیدا ہو جو مسواک سے جاتی رہی ہے ورنہ مسواک سے روزے کی قضا اور پھر دس روزے رکھنے کا حکم کسی امام کے ہاں نہیں،امام شافعی کے ہاں زوال کے بعد روزے میں مسواک مکروہ ہے اور امام احمد کے ہاں آخری دن میں مکروہ مگر مذہب حنفی بہت قوی ہے۔چنانچہ دارقطنی میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا روزے دار کا بہترین مشغلہ مسواک ہے۔طبرانی میں حضرت عبدالرحمن ابن غنم سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاذ ابن جبل سے پوچھا کیا میں روزے میں



Total Pages: 441

Go To