Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

ایک دوسرے کا تھوک دوسرے کے منہ میں نہ جاوے،اگر جائے تو نگلے نہ بلکہ تھوک دے،یہ مسئلہ بتانے کے لیے حضرت ام المؤمنین یہ واقعہ بیان فرمارہی ہیں۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ طبیب بیان علاج میں بڑی بڑی خفیہ باتیں بیان کردیتے ہیں اس بیان میں شرم نہیں کرتے اگر شرم کریں تو علاج کیسے ہو،اسی طرح یہ حضرات مسئلہ شرعی بیان کرنے کے لیے بلاحجاب خفیہ باتیں بیان فرما دیتے ہیں اگر شرم کریں تو دینی مسائل کیونکر واضح ہوں اور لوگوں کو ہدایت کیسے ملے۔

۲؎  مرقاۃ،اشعۃ اللمعات وغیرہ نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے اس کی اسناد میں سعد ابن اوس بصری اور محمد ابن دینار ہیں،سعد ابن اوس تو ضعیف ہیں اور زبان چوسنے کی روایت سوائے محمد ابن دینار کے کسی نے نہ کی اور محمد ابن دینار بھی ضعیف ہیں۔

2006 -[8]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرخص لَهُ. وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَإِذَا الَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بوس و کنار کے متعلق پوچھا آپ نے اسے اجازت دے دی ۱؎ خدمت عالی میں دوسرا حاضر ہوا اور یہ ہی پوچھا تو اسے منع فرمادیا جس کو اجازت دی تھی وہ بڈھا تھا اور جسے منع کیا وہ جوان تھا ۲؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تجھ جیسے روزہ دار کو بحالت روزہ بوس و کنار کی اجازت ہے یہ مسئلہ بتانا تھا۔

۲؎  اس تفریق سے مسئلہ فقہی واضح ہوا کہ بوڑھا یا بیمار یا کمزور یا بہت متقی جو بوس و کنار کے باوجود اپنے نفس پر قابو رکھے اسے اس کی اجازت ہے،دوسرے کے لیے نہیں تاکہ روزہ نہ توڑ بیٹھے،یہ حدیث صحیح ہے اس کی اسناد بہت جید و قوی ہے۔

2007 -[9]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من ذرعه الْقَيْء وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُس. وَقَالَ مُحَمَّد يَعْنِي البُخَارِيّ لَا أرَاهُ مَحْفُوظًا

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے روزہ کی حالت میں قے آجائے تو اس پر قضا نہیں اور جو جان کر قے کرے وہ قضا کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم سوائے عیسیٰ ابن یونس کسی سے نہیں معلوم کرتے،امام محمد بخاری نے فرمایا کہ میں انہیں محفوظ نہیں جانتا ۲؎

۱؎ اسی پر چاروں اماموں کا عمل ہے کہ اگر کوئی شخص روزہ یاد ہوتے ہوئے عمدًا قے کرے تو روزہ جاتا رہے گا کیونکہ قے کا کچھ غیر محسوس حصہ حلق میں واپس لوٹ جاتا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا جیسے سونا وضو توڑ دیتا ہے کہ اس میں اکثر ریح نکل جاتی ہے مگر احساس نہیں ہوتا،ہاں امام ابو یوسف نے عمد کے ساتھ منہ بھر قے ہونے کی پابندی لگائی ہے مگر قے کردینے سے صرف قضا واجب ہوگی کفارہ نہ ہوگا۔قے کے پورے مسائل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔

۲؎  اراہ کی ضمیر کا مرجع حدیث ہے یعنی میں اس حدیث کو محفوظ نہیں جانتا۔خیال رہے کہ امام ترمذی و بخاری کو یہ حدیث غریب ہوکر ملی،اس کو حاکم ابن حبان،دارقطنی نے صحیح اسنادوں سے نقل فرمایا،حاکم نے فرمایا حدیث صحیح شرط شیخین ہے،دارقطنی نے فرمایا کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں،مؤطاء میں امام مالک نے حضرت ابن عمر پرموقوفًا روایت کی،نسائی وعبدالرزاق نے حضرت ابوہریرہ پر موقوفًا روایت کی،ابن ماجہ نے مرفوعًا نقل فرمائی جس کا مضمون و الفاظ اس سے کچھ متفاوت ہے،غرضکہ متن حدیث صحیح ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To