We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

کھجوریں اس کے کفارے کے لیے کافی تھیں،بعض نے فرمایا کہ اس زنبیل میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں ہر مسکین کو چوتھائی صاع یعنی مد کھجوریں دی جائیں۔

۹؎  یعنی اس صدقہ کا پہلے تو مالک بن جا پھر مالک ہوکر اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو خیرات کردے کیونکہ ملک بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ شرعی حیلے درست ہیں کہ کسی فقیر کو زکوۃ کا مالک بنادیا پھر وہ زکوۃ اس سے دوسری جگہ خیرات کرادی،سید کو دلوادی یا مسجد میں خرچ کرادی۔حیلے کی مکمل بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے جہاں آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ سے اس کا ثبوت دیا گیا۔

۱۰؎  یعنی کفارہ فقیروں کو دینا چاہیے مگر مدینہ منورہ میں سب سے زیادہ فقیرو حاجت مند ہم ہی ہیں۔مطلب یہ تھا کہ اجازت ہو تو اسے میں اور میرے بال بچے ہی کھالیں،طلب کے لیے بھی منہ چاہئیے کس ڈھنگ سے داتاسے مانگا۔

۱۱؎  یعنی مسکرائے یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک میں سے کیلیاں ظاہر ہوگئیں۔

۱۲؎  یعنی اپنا یہ کفارہ تو خود بھی کھالے اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلا دے تیرا کفارہ ادا ہوجائے گا۔یہ ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار خداداد کہ مجرم کے لیے اس کا کفارہ اس کے لیے انعام بنادیا ورنہ کوئی شخص اپنا کفارہ اپنی زکوۃ نہ تو خود کھاسکتا ہے نہ اس کے بیوی بچے مگر یہاں اس کا اپنا ہی کفارہ ہے اور اپنے آپ ہی کھارہا ہے۔یہاں بعض لوگوں نے بڑے غوطے کھائے ہیں کہتے ہیں کہ یہ کفارہ نہ تھا کیونکہ وہ فقیر تھا اور ایسے فقیر پر مالی کفارہ واجب نہیں بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ ابھی تو یہ کھالے جب کبھی تیرے پاس مال آئے تو کفارہ ادا کردینا مگر یہ غلط ہے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا فَتَصَدَّقْ بِہٖ اس کا صدقہ دے دے پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کفارہ نہ تھا،اگر فقیر کو بقدر کفارہ مال دے دیا جائے تو وہ کفارہ ضرور دےیہاں ایسا ہی ہوا۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ نہ فرمایا کہ آئندہ تو کفارہ دے دینا،تم یہ کہاں سے کہتے ہو یہ قید اپنی طرف سے ہے حدیث میں نہیں۔تیسرے یہ کہ روایات میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف تجھے ہی کافی ہے دوسرے کو کافی نہ ہوگا۔(ہدایہ)اگر آئندہ کفارہ دلوانا ہوتا تو اس خصوصیت کے کیا معنے۔چوتھے یہ کہ دارقطنی میں اس حدیث کے آخر میں ہے کہ اﷲ نے تیرا کفارہ ادا کردیا،پھر آئندہ کفارہ دینے کے کیا معنے۔ پانچویں یہ کہ امام زہری وغیرہ محدثین نے اسے اس شخص کی خصوصیات سے مانا،دیکھو مرقات و اشعۃ اللمعات وغیرہ۔غرضکہ یہ تاویل بہت رکیک ہے حق وہ ہی ہے جو فقیر نے عرض کیا کہ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے خداداد اختیارات میں سے ہے۔اس اختیار کی پوری بحث ہماری کتاب"سلطنت مصطفی"میں ملاحظہ فرمائیے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

2005 -[7]

عَن عَائِشَة: أَن الني صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِم ويمص لسنانها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحالت روزہ انہیں چومتے اور ان کی زبان شریف چوستے تھے ۱؎ (ابوداؤد)۲؎

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ ماہ رمضان میں واقع ہوتا تھا جب کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ بھی روزہ دار ہوتی تھیں اس لیے معلوم ہوا کہ روزہ دار اگر اپنے نفس پر قادر ہو تو اپنی بیوی کا بوسہ بھی لے سکتا ہے اور اس کی زبان بھی چوس سکتا ہے بشرطیکہ



Total Pages: 441

Go To