Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1997 -[16]

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ: «هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والسنائي

روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کے لیے بلایا ۱؎ تو فرمایا برکت والے ناشتہ کے لیے آؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ حضرت عرباض سحری کے وقت خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہوں گے تو فرمایا آؤ سحری کھالو انہیں باقاعدہ دعوت دے کر گھر سے نہ بلایا ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ کھاتے وقت اگر کوئی مسلمان آجائے تو اس پر کھانا پیش کردینا سنت ہے۔

۲؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ سحری کھانا سنت بھی ہے لہذا اس میں اخروی برکت ہے اور اس سے روزے میں مدد بھی ملتی ہے لہذا اس میں دنیوی برکت بھی ہے۔خیال رہے کہ ھَلُمَّ اسم فعل ہے ایک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت کے لیے بھی، رب تعالٰی نے سارے مشرکوں سے فرمایا:"ہَلُمَّ شُہَدَآءَکُمُ

1998 -[17]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنَ التَّمْرُ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن کی اچھی سحری چھوارے ہیں ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ اس طرح کہ سحری کے وقت کچھ کھانا کھاکر آخر میں کچھ چھوارے بھی کھالے تاکہ روزے کی ابتداءبھی چھواروں سے ہو اور انتہا بھی،سحری کھانا بھی سنت ہے اور چھوہارے کھانا بھی سنت ہے اس صورت میں دو سنتوں کا اجتماع ہوکر ان شاءاﷲ روزہ نورٌ علی نور ہوجائیگا،یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سحری میں بہت کھانا نہ کھاؤ جو بدہضمی کا باعث ہو چند کھجوری کھا کر پانی پی لو۔


 



Total Pages: 441

Go To