We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1993 -[12]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ الله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوئیں اور ان شاءاﷲ ثواب ثابت ہوگیا ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ اس میں رب تعالٰی کا انتہائی شکر ہے کہ پیاس اور رگوں کی خشکی ایک عارضی چیزیں تھیں جو افطار کرتے ہی دور ہوگئیں مگر اس عارضی تکلیف پر جو رب تعالٰی نے ثواب عطا فرمایا وہ عظیم الشان ہے اور دائمی ہے۔ان شاءاﷲ یا محض برکت کے لیے فرمایا گیا یا ہماری تعلیم کے لیےکہ ہم کو روزہ مقبول یا مردود ہونے کی خبر نہیں،اگر رب تعالٰی نے قبول فرمالیا ہو تو پھر اجر ہی اجر ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اِنَّ بمعنی اِذْ اور اس کا تعلق گزشتہ تینوں چیزوں سے ہے مگر پہلی توجیہ قوی بھی ہے اور موقعہ کے مناسب بھی۔

1994 -[13]

وَعَنْ مُعَاذٍ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ صَمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد مُرْسلا

روایت ہے حضرت معاذ ابن زہرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے الٰہی میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا ۱؎(ابوداؤد مرسلًا)

۱؎ افطار کے وقت یہ دعا مانگنا سنت ہے،مرقات نے فرمایا کہ اگر یہ بھی کہہ لے وَبِكَ اٰمَنْتُ اگرچہ اس کلمہ کی کوئی اصل تو نہیں مگر درست ہے،بعض لوگ آخر میں یہ بھی کہہ لیتے ہیں"وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ"یہ کل کے روزے کی نیت ہے اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بدعت حسنہ ہے،بعض لوگ افطار کے وقت یوں کہتے ہیں"اَللّٰھُمَّ لَكَ صُمْتُ وَبِكَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْكَ تَوَکَّلْتُ وَبِرِزْقِكَ اَفْطَرْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ"اس میں بھی حرج نہیں۔غرضکہ دعائیہ کلمات میں زیادتی جائز ہے،بعض لوگ اَلتَّحِیَّاتُ میں درود ابراہیمی میں لفظ مُحَمَّدٍ سے پہلے سَیِّدِنَا بڑھادیتے ہیں،بعض حجاج تلبیہ میں یہ زیادتی کر دیتے ہیں"اِنَّ عَبْدَكَ وَاِبْنَ عَبْدَیْكَ وَاقِفٌ بَیْنَ یَدَیْكَ حَالُہٗ لَایَخْفٰی عَلَیْكَ"وغیرہ اس میں بھی حرج نہیں،ہاں درود وظیفوں کے الفاظ بالکل نہ بدلے جائیں کیونکہ وہ کسی خاص اثر کے لیے ہوتے ہیں اور یہ اثر منقولہ الفاظ سے وابستہ ہے اور دعائیں محض ثواب کے لیے یہاں جتنے الفاظ زیادہ اتنا ثواب زیادہ۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1995 -[14]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین غالب رہے گا جب تک لوگ جلدی افطارکرتے رہیں ۱؎کیونکہ یہود اور عیسائی دیر سے افطار کرتے ہیں ۲؎(ابوداؤد، ابن ماجہ)

۱؎ یعنی مسلمانوں کا جلدی روزہ افطارتے رہنا دین کے غلبے کا سبب ہے۔معلوم ہوا کہ سنتوں بلکہ مستحبات کی پابندی مسلمانوں کی شوکت اور دین کے ظہور و دبدبہ کاباعث ہے،پھر فرائض کا کیا پوچھنا،ہندوستان کے مسلمان اذان اور گائے کی قربانی پر کفار سے لڑتے رہے،کیوں؟غلبۂ اسلام کو قائم رکھنے کے لیے۔خیال رہے کہ یہاں جلدی سے مراد وقت جواز میں جلدی ہے جب سورج ڈوب جائے پھر دیر نہ لگائے،بلاوجہ دیر لگانا سنت کے خلاف ہے اور اتنی دیر کہ تارے گتھ جائیں مکروہ تحریمی۔

 



Total Pages: 441

Go To