Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ اس سے دو مسئلے ہوئے:ایک یہ کہ روزہ دار افطار پہلے کرے نماز مغرب کے بعد افطار کرنا سنت کے خلاف ہے۔دوسرے یہ کہ چند کھجوریں افطار کے وقت کھانا مسنون ہے تین یا پانچ،بعض روایات میں تین خرمے کا ذکر ہے۔مرقات نے فرمایا کہ حضرت عمر فاروق و عثمان غنی رضی اللہ عنہما کبھی بعد نماز مغرب افطار کرتے تھے یا تو بیان جواز کے لیے تاکہ لوگ نماز سے پہلے افطار کو فرض نہ سمجھ لیں یا اس لیے کہ اتفاقًا اس وقت افطارنے کے لیے کچھ موجود نہ ہوتا۔بہرحال نماز سے پہلے افطار سنت ہے اور نماز کے بعد افطار جائز مگر خلاف سنت،ہاں اگر کچھ موجود نہ ہو تو بعد نماز افطار کرلے یا حضرت عمر و عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہما کی حدیث میں افطار سے مراد کھانا تناول کرنا ہے یعنی افطار تو نماز سے پہلے کرلیتے تھے اور کھانا بعد نماز کھاتے تھے،بہرحال حدیث واجب التاویل ہے۔

۲؎ اس ترتیب سے پتہ لگا کہ تر کھجور پر روزہ افطارنا بہت اچھا ہے،پھر اگر یہ نہ ملیں تو خشک چھواروں پر افطار کرنا،ہمارے رمضان شریف میں کثرت سے بازار میں کھجوریں آجاتی ہیں اور عام طور پر لوگ خریدتے ہیں،مسجدوں میں بھیجتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۳؎ غرضکہ روٹی چاول یا کسی پرتکلف چیز پر روزہ افطار نہ فرماتے تھے،پنجاب میں بعض روزہ داروں کو دیکھا گیا کہ سگریٹ سے روزہ افطارتے ہیں،نعوذباﷲ روزہ دار کے منہ میں پہلے پاکیزہ چیز جانی چاہئیے سگریٹ گندی بدبودار چیز بھی ہے اور اس سے روزہ افطارنا مضر صحت بھی ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بہتر یہ ہے کہ آگ سے پکی چیز سے روزہ نہ افطارے بلکہ گرمی میں پانی سے سردی میں کھجور سے افطارے،جب آگ کی پکی چیز سے روزہ نہ افطارنا چاہئیےتو خود آگ سے روزہ افطارنا کتنا بُرا ہوگا،بعض لوگ کہتے ہیں کہ مکہ والے ہمیشہ آبِ زمزم سے روزہ افطاریں یہ غلط ہے سنت کے خلا ف ہے،سنت ہے کھجور یا چھوارے سے افطارنا اگر یہ نہ لیں تو پانی سے افطارنا۔

1992 -[11]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَمُحْيِي السّنة فِي شرح السّنة وَقَالَ صَحِيح

روایت ہے حضرت زید بن خالد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو روزے دار کو افطار کرائے یا غازی کو سامان دے تو اسے ان ہی کی طرح ثواب ہے ۱؎ (بیہقی شعب الایمان)محی السنہ نے شرح سنہ میں اسے روایت کیا اور فرمایا صحیح ہے ۲؎

۱؎ اس لیے کہ روزہ دار کو افطار کرانے یا غازی کو سامان دینے میں نیکی پر مدد کرنا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی"۔چونکہ روزہ دارنفس و شیطان سے جہادکرتا ہے اس لیے اسے غازی کے ساتھ ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ روزہ افطار کرانے سے ثواب روزہ مل جائے گا مگر اس سے روزہ ادا نہ ہوگا وہ تو رکھنے سے ہی ادا ہوگا،ثواب مل جانا اور ہے فرض ادا ہونا کچھ اور۔

۲؎ یہ حدیث ترمذی،ابن ماجہ،نسائی،ابن حبان وغیرہم محدثین نے نقل فرمائی،ترمذی نے اسے حسن صحیح فرمایا،شاید حضرت مصنف قدس سرہ ان اسنادوں پر مطلع نہ ہوئے اس لیے ان کا ذکر نہ فرمایا۔

1993 -[12]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ الله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطارتے تو فرماتے پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوئیں اور ان شاءاﷲ ثواب ثابت ہوگیا ۱؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 441

Go To