We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

نورانیت کا ظہور ہے اور عادت میں بشریت کی جلوہ گری لہذا یہ حدیث حضرت جابر کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت کھانا نہ کھانے پر دو پتھر پیٹ سے باندھے۔(۳)تیسرے یہ کہ جنتی میوے کھانے اور وہاں کا پانی پینے سے روزہ نہیں جاتا جیسے رب تعالٰی سے کلام کرنے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے سے نماز نہیں جاتی۔بعض اولیاء خواب میں کھا پی لیتے ہیں کہ کھانے کی خوشبو بیداری کے بعد ان کے منہ میں پائی جاتی ہے مگر ان کا روزہ قائم رہتا ہے،دیکھو احتلام سے ہمارا روزہ نہیں جاتا۔(۴)چوتھے یہ کہ بعض بندوں کو اسی زندگی میں جنتی میوے ملتے ہیں،حضرت مریم علیہا السلام کا جنتی میوے کھانا قرآن پاک سے ثابت ہے۔(۵)پانچویں یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کام ہمارے لیے سنت نہیں بلکہ وہ کام سنت ہے جو ہمارے لیے لائق عمل ہوخصوصیات مصطفوی ہمارے لیے سنت نہیں۔روزۂ وصال،نو بیویاں نکاح میں جمع فرمانا ہمارے لیے نہ سنت ہیں نہ لائق عمل سنت و حدیث میں یہی فرق ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1987 -[6]

عَن حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمَيُّ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: وَقفه على حَفْصَة معمر والزبيدي وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الَأَيْلِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ

روایت ہے حضرت حفصہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو فجر سے پہلے روزہ کا ارادہ(نیت)نہ کرے اس کے روزے نہیں ہوتے ۱؎ (ترمذی ابوداؤد نسائی،دارمی)ابوداؤد نے فرمایا کہ اسے معمر زبیدی ابن عیینہ اور یونس ایلی نے حضرت حفصہ پر موقوف کیا یہ تمام حضرات زہری سے راوی ہیں  ۱؎

۱؎ یعنی روزے کی نیت رات سے کرنا چاہئیے صبح صادق سے پہلے تاکہ دن کا ہر حصہ روزے کی نیت سے گزارے۔یہاں اس سے مراد وہ روزہ ہے جو فرض ہو مگر مقرر نہ ہو جیسے رمضان کی قضا یا مطلق نذر کا روزہ نفلی روزہ اور معین فرض روزے کی نیت دن میں ضحویٰ کبرے سے پہلے ہوسکتی ہے کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صبح کو تشریف لاتے تو فرماتے کچھ کھا نے کو ہے میں عرض کرتی کچھ نہیں تو فرماتے اچھا تو ہمارا روزہ ہے،نیز روایات میں ہے کہ ایک بار صبح کو رمضان کا چاند ہوجانے کی خبر ملی تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ابھی تک کچھ نہ کھایا پیا ہو وہ روزہ رکھ لے۔فقیر کی اس شرح پر یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کہ وہاں نفلی روزہ ہے یا فرضی معین روزہ اور یہاں فرضی غیرمعین روزہ مراد ہے۔

۲؎ اس حدیث کے متعلق ترمذی نے فرمایا کہ نافع نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا نسائی نے فرمایا کہ صحیح یہ ہی ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے،دارقطنی نے اسے مرفوعًا نقل کیا،امام نووی نے فرمایا کہ حدیث صحیح ہے بہت ہی اسنادوں سے مروی ہے۔

1988 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِنَاءُ فِي يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضرورت پوری کئے بغیر اسے نہ رکھے ۱؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 441

Go To