$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1984 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَهْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ»

روایت ہے حضرت سہل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگ بھلائی میں رہیں گے جب تک افطار جلدی کرتے رہیں گے ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ افطار جلدی کرنے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ افطار نماز مغرب سے پہلے کیا جائے،نماز پہلے پڑھ لینا بعد میں افطار کرنا اس حدیث کے خلاف ہے۔(مرقات)دوسرے یہ کہ آفتاب ڈوبنے کا یقین ہوجانے پر افطارکرلیا جائے پھر دیر نہ لگائی جائے۔خیال رہے کہ افطار کے وقت بھی تین ہیں:وقت مستحب،وقت مباح اور وقت مکروہ۔وقت مستحب تو وہ ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ سورج کا آخری کنارہ چھپتے ہی روزہ افطار کیا جائے۔وقت مباح تارے گتھنے سے کچھ پہلے تک دیر لگانا اور تارے گھتے جانے پر افطار کرنا مکروہ۔اس کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت یہودی روزہ افطارتے ہیں،اس میں ان سے مشابہت ہے اور جلدی افطارنے میں اپنے عجز بندگی کا اظہار بھی ہے اور اﷲ کی دی ہوئی اجازت کا جلدی قبول کرنابھی۔(مرقاۃ)اسی مرقات میں ہے کہ بعض علماء نے فرمایا نفس پر مشقت ڈالنے اور مغرب و عشاء کو ملانے کے لیے دیر سے افطار کرنا بہتر ہے مگر یہ غلط ہے کیونکہ سنت رسول اﷲ سیدھا راستہ ہے اور اس کی مخالفت گمراہی ہمیشہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کرتے تھے، نفس کشی کے لیے سنت کی مخالفت نہ کرو کہ یہ نفس کشی نہیں بلکہ رہبانیت ہے،ہماری نفس کشی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے اور اللہ کی دی ہوئی اجازت کا جلدی قبول کرنا بھی ۔

1985 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْل من هَهُنَا وَأدبر النَّهَار من هَهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رات ادھر سے آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے ۱؎ اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار افطار کرے ۲؎ (مسلم، بخاری)

۱؎ پہلے ادھر سے سمت مغرب مراد ہے اور دوسرے ادھر سے سمت مشرق مراد،چونکہ مغرب کی طرف سیاہی پہلے نمودار ہوتی ہے اور سورج کا آخری کنارہ پیچھے ڈوبتا ہے اس لیے اس سید الفصحاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے رات کے آنے کا ذکر پہلے فرمایا،دن کے جانے سے مراد سورج کا آخری کنارہ ڈوب جاناہے نہ کہ سرخی غائب ہوجانا کیونکہ سرخی غائب ہونے پر تو صاحبین کے ہاں وقت عشاء آجاتا ہے اسی لیے اگلا جملہ ارشاد ہورہا ہے۔

۲؎ اس جملہ نے دن جانے کی شرح فرمادی یعنی سورج چھپتے ہی روزہ افطارو اب نفس کشی کے بہانے یا وہمیات کی اتباع نہ کرو،اب خواہ مخواہ دن ہونے کا شبہ کرنا شک نہیں بلکہ وہم ہے۔

1986 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ. فَقَالَ لَهُ رجل: إِنَّك تواصل يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبَيْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي ويسقيني "

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے میں وصال کرنے سے منع فرمایا ۱؎ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ تو وصال کرتے ہیں ۲؎ فرمایا تم میں مجھ جیسا کون ہے ۳؎ میں اس طرح رات گزارتاہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To