We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

الفصل الثالث

تیسری فصل

1980 -[12]

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَالَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ. ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی اتنی نگرانی فرماتے تھے جتنی دوسرے مہینہ کی نہ کرتے تھے ۱؎ پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے پھر اگر مشتبہ ہو جاتا ۲؎  تو تیس دن پورے کرتے پھر روزہ رکھتے۔ (ابوداؤد)

۱؎ اس طرح کہ شعبان کا چاند بہت اہتمام سے دیکھتے تھے،پھر اس کے دن کی شمار رکھتے تھےکیونکہ اس پر ماہ رمضان کا دارومدار ہے،بقرعید کے چاند پربھی اگرچہ حج وغیرہ کا دارومدار ہے مگر حج ہر سال ہرشخص نہیں کرتا اورنماز بقرعید و قربانی چاند سے دس دن بعد ہوتی ہے جس میں چاند کا پتہ لگ جاتا ہے،رمضان میں چاند ہوتے ہی ہرشخص روزے رکھتا ہے لہذا اس کے چاند کا اہتمام زیادہ چاہیے۔

۲؎  یعنی اگر رمضان کا چاند خود بھی نہ ملاحظہ فرماتے اور نہ شرعی ثبوت پاتے تو تیس دن شعبان کے پورے فرماتے۔

1981 -[13]

وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ. وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. فَقَالَ: أَيُّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ. قَالَ: أَهَلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن الله تَعَالَى قد أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوالبختری سے ۱؎  فرماتے ہیں ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے جب بطن نخلہ میں اترے ۲؎ تو ہم چاند دیکھنے جمع ہوئے۳؎  بعض قوم نے کہا کہ یہ تیسری رات کا ہے اور بعض نے کہا دوسری رات کا ہے۴؎ پھر حضرت ابن عباس سے ملے ہم نے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے تو بعض نے کہاہےتیسری رات کا ہے اور بعض نے کہا دوسری رات کا ہے تو آپ نے فرمایا تم نے کس رات دیکھا ۵؎ ہم نے عرض کیا فلاں رات۶؎  تو فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی مدت دیکھنے تک کی رکھی لہذا وہ اسی رات کا ہے جب تم نے دیکھا۷؎ انہی سے ایک روایت ہے کہ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا جب ہم ذات عرق میں تھے ۸؎ تو ہم نے حضرت ابن عباس کے پاس ایک شخص مسئلہ پوچھنے بھیجا حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے چاند کی مدت دیکھنے تک رکھی تو اگر تم پر مشتبہ ہوجائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو ۹؎ (مسلم)

۱؎ ان کا نام سعید ابن فیروز ہے،تابعین میں سے ہیں،کوفی ہیں،آدمی ٹھیک تھے،مائل بہ رفض تھے،ان کی سمعی حدیثیں مقبول ہیں دوسری نہیں۔(مرقات وغیرہ)

 



Total Pages: 441

Go To