Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1976 -[8]

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو متواتر دو ماہ روزے رکھتے نہ دیکھا سوائے شعبان و رمضان کے ۱؎ (ابوداؤد ترمذی،نسائی ابن ماجہ)

۱؎  ظاہر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے ہی شعبان کے اکثر روزے رکھتے تھے حتی کہ انتیسویں یا تیسویں شعبان کے بھی۔ اس کی ممانعت کی تو جہیں پہلے کی جاچکی ہیں کہ کمزوروں کے لیے پندرہویں شعبان کے بعد روزے مناسب نہیں،قوت والوں کے لیے مناسب ہیں۔بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزے زیادہ رکھتے تھے اور افطار کم فرماتے تھے یعنی کبھی وہ عمل فرماتے تھے اور کبھی یہ لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

1977 -[9]

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدَ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں جو شک کے دن روزہ رکھے اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)۲؎

۱؎ اس نافرمانی کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ سارے شعبان میں کبھی روزے نہ رکھے صرف شک کے دن بلاوجہ نفلی روزہ رکھے۔دوسرے یہ کہ شک کے دن رمضان کی نیت سے فرضی روزہ رکھے۔تیسرے یہ کہ اس روزہ میں متردد نیت کرے کہ آج اگر رمضان کی پہلی ہے تو یہ روزہ فرضی ہے اور اگر شعبان کی تیسویں ہے تو یہ روزہ نفلی ہے یہ تینوں صورتیں ممنوع ہیں،دوسری صورت زیادہ بری کہ اس میں اہل کتاب سے مشابہت ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث اباحت کے خلاف نہیں۔مرقات میں ہے کہ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ شوال کے چھ روزوں کا رمضان سے ملانا عوام کے لیے ناپسندکرتے تھے۔

۲؎  ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح فرمایا اور بخاری نے اسے تعلیقًا روایت کیا،حاکم نے اسے بشرط شیخین بتایا،طبرانی نے حضرت ابن عباس سے موقوفًا روایت کیا۔غرض کہ یہ حدیث صحیح ہے جن لوگوں نے اسے موضوع بتایا انہوں نے سخت غلطی کی۔خیال رہے کہ ترمذی وغیرہ میں اصل حدیث یوں ہے کہ حضرت صلح ابن زفر فرماتے ہیں کہ ہم شک کے دن حضرت عمار ابن یاسر کے پاس تھے،آپ کی خدمت میں بھنی بکری لائی گئی بعض لوگ پیچھے ہٹ گئےتب آپ نے فرمایا جو اس دن روزہ رکھے اس نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔اس قسم کی موقوف حدیثیں مرفوع کے حکم میں ہوتی ہیں۔

1978 -[20]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ فَقَالَ: «أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «يَا بِلَالُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَن يَصُومُوا غَدا» .رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں ایک بدوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر بولا کہ میں نے چاند دیکھا ہے یعنی رمضان کا چاند ۱؎ حضور نے فرمایا کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں بولا  ہاں  فرمایا کیا  یہ  بھی گواہی دیتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں بولا ہاں۲؎  فرمایا اے بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۳؎ (ابو داؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی اس نے نہ تو اپنے ساتھ کوئی اور گواہ پیش کیا اور نہ گواہی کے الفاظ ادا کئے۔اس سے معلوم ہوا کہ اس چاند میں خبر کافی ہوتی ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To