We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ یعنی رمضان کے چاند سے ایک دو دن پہلے نفلی روزے نہ رکھے تاکہ نفل و فرض مخلوط نہ ہوجائیں جیسے فرض نماز سے ملا کر نفل نہ پڑھے بلکہ وقفہ کرکے جگہ تبدیل کرکے پڑھے یا اس لیے نہ ملائے تاکہ لوگوں کو رمضان کا چاند ہونے کا شبہ نہ ہوجائے لوگ سمجھیں کہ شاید اس نے چاند دیکھ لیا ہے یہ ممانعت تنزیہی ہے وہ بھی عوام کے لیے،خاص علماء اگر روزہ رکھ لیں اورکسی پر ظاہر نہ کریں تو درست ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے ماہ رمضان سے ملادیتے تھے۔(لمعات و مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ قضاء اور نذر کے روزے ان دنوں میں رکھنا بلاکراہت جائز ہے۔

۲؎  یعنی اگر کسی مسلمان کی عادت ہے کہ ہر سوموار یا ہر جمعرات یا جمعہ کو نفلی روزہ رکھا کرتا ہے اور اتفاقًا انتیسویں شعبان اسی دن آئی تو اسے بلاکراہت یہ نفلی روزہ رکھ لینا جائز ہے کہ یہ شک کے دن کا روزہ نہیں بلکہ اپنی عادت کے دن کا روزہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی خاص دن میں ہمیشہ روزہ رکھنا یا نوافل پڑھنا یا خیرات کرنا جائز ہے،نہ یہ تعین حرام ہے اور نہ یہ تقرر مکروہ لہذا ہر ماہ کی بارہویں میلاد شریف کرنا،گیارہویں تاریخ کو غوث پاک کی فاتحہ کرنا،اس میں نوافل پڑھنا،ختم قرآن کرنا،صدقہ و خیرات کرنا جائز اور باعث ثواب ہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ نفلی عبادات میں مقرر کرنا حرام ہے،خود ان بزرگوں کے ہاں دینی مدارس کی تعطیلیں و امتحانات مقرر دنوں میں ہوتے ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1974 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب ماہ شعبان آدھا گزر جائے تو روزہ نہ رکھو ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یہ ممانعت ان کمزور لوگوں کے لیے ہے جو اس زمانہ میں نفلی روزے رکھ کر رمضان کے روزوں پرقادر نہ رہیں یا ان سے بہت تکلیف اٹھائیں یا ان لوگوں کے لیے جو شروع شعبان میں تو روزے نہ رکھیں پندرھویں شعبان کے بعد بلا وجہ مسلسل روزے شروع کردیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں وارد ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سارے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے۔مرقات نے فرمایا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان جواز کے لیے۔

1975 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أحصوا هِلَال شعْبَان لرمضان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے لیے شعبان کے چاند کا حساب رکھو ۱؎ (ترمذی)

۱؎ اس طرح کہ شعبان کا چاند بہت تحقیق سے دیکھو اور اس کے دن گنتے رہو تاکہ رمضان کا آنا یقین سے معلوم ہو۔فقہاء فرماتے ہیں کہ شعبان کا چاند دیکھنا بھی ضروری ہےرمضان کے لیے،اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

1976 -[8]

وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو متواتر دو ماہ روزے رکھتے نہ دیکھا سوائے شعبان و رمضان کے ۱؎ (ابوداؤد ترمذی،نسائی ابن ماجہ)

 



Total Pages: 441

Go To