Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

معنے بے پڑھا ہے بے علم نہیں اﷲ تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے ایسا عالم بنایا کہ جہان بھر کے علماء ان کی شاگردی کریں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بایں معنے امی ہیں کہ پیدائشی عالم،عارف،معلم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔شعر

جو فلسفیوں سے حل نہ ہوئے اور نکتہ وروں سے کھل نہ سکے

وہ  راز  اک   امی  لقبی   نے  سمجھا دیئے    چند   اشاروں  میں

اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ چاند میں حساب،جنتری،چاند کی رفتار کا قیاس،چاند کا چھوٹا بڑا ہونا،اٹھائیس تاریخ کو نظر نہ آنا وغیرہ کچھ بھی معتبر نہیں صرف رؤیت کا اعتبار ہے اگر انتیس کو رؤیت نہ ہو تو تیس دن پورے کرنا لازم ہیں۔

۲؎  سبحان اﷲ! ان پاک اشاروں پر ہماری جانیں فدا ہوں دو اشاروں میں ہزار ہا مسائل حل فرمادیئے۔اس اشارہ فرمانے سے اشارۃً معلوم ہوا کہ حدود و قصاص کے سوا باقی اکثر احکام شرعیہ میں اشارہ معتبر ہے۔اگر کوئی اپنی بیوی کو تین انگلیاں دکھا کر کہے تجھے اتنی طلاقیں تو تین طلاقیں واقع ہوں گی،اگر حاکم کے سامنے کوئی دسوں انگلیاں دکھا کر کہے مجھ پر فلاں کے اتنے روپے قرض ہیں تو دس۱۰ روپے کا اقرار ہوا،اگرکسی عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ تیرا نکاح اس سے کرتا ہوں تو نکاح ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ اسی طرح گونگا اشاروں سے نکاح،طلاق وغیرہ کرسکتا ہے۔

1972 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ: رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ "

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو مہینہ ۱؎ کبھی کم نہیں ہوتے رمضان اور بقرعید ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ رمضان اور بقر عید چونکہ رمضان عید الفطر کا پیش خیمہ ہے یا اس کی ہر ساعت خوشی و مسرت کی ہے اس لیے اسے بھی ماہ عید کہہ دیا گیایا تغلیبًا تنبہ کردیا گیا جیسے چاند و سورج کو قمرین کہہ دیتے ہیں اور حضرت ابوبکر و عمر کو عمرین۔

۴؎ بعض نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ ایک سال میں ماہ رمضان و بقر عید دونوں انتیس کے نہیں ہوتے یا دونوں تیس کے ہوں گے یا ایک انتیس کا دوسرا تیس کا مگر یہ غلط ہے مشاہدہ کے خلاف ہے۔بعض نے فرمایا کہ اکثریہ قاعدہ ہے مگر یہ بھی غلط ہے۔مرقات نے فرمایا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے کل نو رمضان کے روزے رکھے جن میں دو تیسے تھے باقی سات انتیسے اب بھی بہت دفعہ رمضان و بقرعید دونوں انتیسے ہوجاتے ہیں لہذا یہاں کمی سے مراد ثواب و درجہ کی کمی ہے نہ کہ تعداد ایام کی کمی یعنی رمضان و بقر عید انتیس کے ہوں یا تیس کے ثواب عمل برابر ہی ملے گا یعنی انتیس کا ثواب تیس کے برابر یا بقر عید کے پہلے عشرہ کی نیکیوں کا ثواب رمضان کے پہلے عشرہ کی نیکیوں کے برابر ہے نہ یہ کم نہ وہ۔واﷲ اعلم!

1973 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُوم صوما فليصم ذَلِك الْيَوْم»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی رمضان سے پہلے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے ۱؎ مگر ہاں جو کوئی روزہ رکھتا ہو تو وہ اس دن روزہ رکھے۲؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To