We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب رؤية الهلال

باب چاند دیکھنا   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ عربی میں تیسری شب تک کے چاند کو ہلال کہتے ہیں ان کے بعد کی راتوں میں قمر کہا جاتا ہے اور چودھویں شب کے چاند کو بدر کہا جاتا ہے،آخری راتوں میں محا ق،یہاں رمضان وغیرہ کی پہلی شب کا چاند مراد ہے۔بہت سی اسلامی عبادات چاند پر موقوف ہیں اس لیے ہر مہینہ کا ہی چانددیکھنا چاہیے مگر خصوصیت سے شبِ برات،رمضان، شوال،بقر عید کا چاند ضرور دیکھنا چاہئے کہ ان سے روزے،عید،قربانی وغیرہ متعلق ہیں اس لیے مصنف نے چاند دیکھنے کا مستقل باب باندھا۔

1969 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ»

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ روزہ نہ رکھو حتی کہ رمضان کا چاند دیکھ لو اور افطار نہ کرو حتی کہ چاند دیکھ لو ۱؎ اگر تم پر ابر کی وجہ سے چاند چھپ جائے تو مہینہ کا اندازہ لگا لو۲؎  اور ایک روایت میں ہے کہ مہینہ انتیس راتوں کا ہے تو روزہ نہ رکھو حتی کہ چاند دیکھ لو ۳؎  پھر اگر تم پر چاند مشتبہ ہوجائے تو تیس دن کی گنتی پوری کرلو ۴؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی نہ تو مشکوک دن میں روزہ رکھو اور نہ مشکوک میں عید مناؤ لہذا تیسویں شعبان کو روزہ نہ رکھو کہ شاید کل چاند ہوگیا ہو اور تئیسوں رمضان کو عید نہ مناؤ اس شبہ پر کہ کل شاید شوال کا چاند ہوگیا ہو بلکہ جب رمضان یا شوال کا چاند یقینی طو ر پر ہوجائے تب روزہ یا عید مانو۔اس جملہ پر بہت سے شرعی احکام مرتب ہیں،فقہاء فرماتے ہیں کہ شک کے دن روزہ رکھنا منع ہے اس کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔

۲؎ یعنی تیس دن پورے کرلو کیونکہ چاند کا مہینہ ۲۹ دن سے کم نہیں ہوتا اور ۳۰ دن سے زیادہ نہیں ہوتا،چاند دیکھنے کی کچھ تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔

۳؎ یعنی عربی مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے لیکن اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس کا ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چاند میں دیکھنے کا اعتبار ہے،جنتری حساب وغیرہ شریعت میں بالکل غیرمعتبر ہیں جیساکہ آگے آرہا ہے۔

۴؎ یہ جملہ اس آیت کی تفسیر ہے"وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ہَدٰىکُمْ"یعنی ماہ رمضان کی گنتی پوری کرنا فرض ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر جنتری والا اپنے حساب سے روزہ رکھے یا عید کرے تو سخت گنہگار ہوگا کیونکہ شریعت میں چاند دیکھنے کا اعتبار ہے اور اگر حساب پر عید منوائے تو سخت فاسق ہوگا اور اگر اسی حساب پر لوگوں کے روزے تڑوا دے تو سب پر کفارہ واجب ہوگا اور اگر اس حساب پرعمل کو واجب جان کر روزہ یا عید کو فرض جانے تو کافر ہوجائے گاکیونکہ وہ آٓیت مذکورہ کا بھی منکر ہوا اور احادیث متواترہ کا بھی۔

1970 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غم عَلَيْكُم فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطارکرو ۱؎ پھر اگر چاند تم پر مشتبہ ہوجائے تو شعبان تیس دن کا شمار کرو۲؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To