Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۴؎ اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں بہترین مطلب یہ ہے کہ عام شیاطین تو رب کے عام جیل خانوں میں بند کئے جاتے ہیں مگر بہت زیادہ سرکش شیاطین زنجیروں و طوقوں میں باندھے جاتے ہیں جیسے دنیاوی جیلوں میں پھانسی کے ملزم کال کوٹھری میں بند ہوتے ہیں اور ڈاکوؤں کو بیڑیاں پہنادی جاتی ہیں اسی لیے یہاں تُغَلُّ فرمایا گیا۔تغل غل سے بنا،بمعنی زنجیر و طوق لہذا یہاں مردود کی قید احترازی ہے اور یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف بھی نہیں۔

۵؎  وہ رات شب قدر ہے جو بفضلہ تعالٰی ہر ماہ رمضان میں ہوتی ہے کہ دوسری ہزار مہینوں کی عبادت سے جس میں شبِ قدر نہ ہو اس ایک رات کی عبادت بہتر ہے اور غالبًا یہ رات ستائیسویں رمضان ہے۔اس کی نفیس بحث ہماری کتاب"مواعظہ نعیمیہ"میں ملاحظہ فرمائیے۔خیال رہے کہ لیلۃ القدر میں نو حرف ہیں اور سورۃ قدر میں یہ لفظ تین بار ارشاد ہوا نو۹ تین دفعہ ہوں تو ستائیس بنتے ہیں،نیز سورۂ قدر میں تیس کلمے ہیں آخری آیت "ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ"میں ھی ضمیر جو لیلۃ القدر کی طرف لوٹ رہی ہے ستائیسواں کلمہ ہے۔ان وجوہ سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر ستائیسویں رمضان ہے۔

۶؎ یعنی جس نے یہ رات گناہوں میں گزاری یا اس رات بھی بلاعذر عشاء اور فجر جماعت سے نہ پڑھی اس لیے اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ بقیہ دنوں میں بھی بھلائی نہیں کمائے گا۔شبِ قدر میں عبادتوں کی تین قسم ہیں جن میں سے آخری قسم ہے عشاء و فجر کا جماعت سے ادا کرنا جس نے یہ بھی نہ کیا واقعی وہ بڑا محروم ہے۔الحمدﷲ! گنہگار احمد یار آج ستائیسویں رمضان ۱۳۷۹ھ؁ کو یہ مضمون لکھ رہا ہے آج شبِ قدر ہے۔

1963 -[8]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النُّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ فيشفعان ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے اور قرآن بندے کی شفاعت کریں گے ۱؎ روزے عرض کریں گے یارب میں نے اسے دن میں کھانے اور شہوت سے روکا لہذا اس کے بارے میں میری شفاعت قبول کر اور قرآن کہے گا میں نے اسے رات میں سونے سے روکا لہذا اس کے متلق میری شفاعت قبول کر ۲؎ دونوں کی شفاعت قبول ہوگی ۳؎ (بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی روزہ رکھنے والے تراویح پڑھنے والے گنہگار بندے کی تو معافی کی سفارش کریں گے اور بے گناہ بندے کی بلندیٔ درجات کی لہذا قرآن و رمضان کی شفاعت سے سارے ہی مؤمن فائدہ اٹھائیں گے،چونکہ قرآن کریم رمضان المبارک ہی میں آیا اور رمضان میں ہی اس کی تلاوت زیادہ ہوتی ہے اور دن میں روزہ رات کو تراویح میں تلاوت قرآن ہوتی ہے اسی لیے ان دونوں کو جمع فرمایا گیا۔

۲؎  یعنی روزہ افطار کرکے اس کی طبیعت آرام کی طرف مائل ہوتی تھی،ہاتھ پاؤں میں سستی پھیل جاتی تھی کہ نماز عشاء کی اذان کی آواز سنتے ہی تراویح میں مجھے سننے آجاتا تھا لہذا یہاں تراویح پڑھنے والے مراد ہیں تہجد والے ہی مراد نہیں کیونکہ تہجد تو سال بھر پڑھی جاتی ہے یہاں خصوصیت سے رمضان کا ذکر ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ یہاں رمضان نے تو اے رب عرض کیا مگر قرآن نے اے رب نہ کہا۔معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کلام الٰہی قدیم ہے اور مخلوق نہیں۔(مرقات)

 



Total Pages: 441

Go To