We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ یعنی حدیث مرفوع غریب ہے موقوف صحیح ہے اور ہوسکتا ہے کہ غریب بھی ہو اور صحیح بھی کیونکہ غرابت حسن یا صحیح ہونے کے خلاف نہیں۔(مرقات)امام جزری فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے ایک راوی ابوبکر ابن عیاش بھی ہیں جن کے ثقہ ہونے میں اختلاف ہے،بعض نے فرمایا کہ اگرچہ امام عاصم قاری کے شاگرد ہیں اور امام حفص پر قرأت میں مقدم ہیں اور فضائل و کمالات میں اپنے اہلِ زمانہ پر فوقیت رکھتے ہیں مگر کچھ حافظہ کے کمزور تھے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1962 -[7]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان آگیا برکت والا مہینہ ہے ۱؎ اﷲ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ۲؎ اس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۳؎ دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں اور اس میں مردود شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۴؎  اس میں ایک رات ہے ہزار مہینوں سے  بہتر ۵؎  جو اس کی خیر سے محروم  رہا  وہ  بالکل  ہی محروم رہا ۶؎(احمد،نسائی)

۱؎ برکت کے معنی ہیں بیٹھ جانا جم جانا اسی لیے اونٹ کے طویلہ کو مبارك الابل کہا جاتا ہے کہ وہاں اونٹ بیٹھتے بندھتے ہیں اب وہ زیادتی خیر جو آکر نہ جائے برکت کہلاتی ہے،چونکہ ماہ رمضان میں حسی برکتیں بھی ہیں اور غیبی برکتیں بھی اس لیے اس مہینہ کا نام ماہ مبارک بھی ہے رمضان میں قدرتی طور پر مؤمنوں کے رزق میں برکت ہوتی ہے اور ہر نیکی کا ثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کی آمد پر خوش ہونا ایک دوسرے کو مبارک بار دینا سنت ہے اور جس کی آمد پر خوشی ہونا چاہئیے اس کے جانے پر غم بھی ہونا چاہئیے۔دیکھو نکاح ختم ہونے پر عورت کو شرعًا غم لازم ہے اسی لیے اکثر مسلمان جمعۃ الوداع کو مغموم اور چشم پر نم ہوتے ہیں اور خطباء اس دن میں کچھ وداعیہ کلمات کہتے ہیں تاکہ مسلمان باقی گھڑیوں کو غنیمت جان کر نیکیوں میں اور زیادہ کوشش کریں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۲؎ یعنی سب پر روزۂ رمضان ہی فرض ہیں طاقتِ روزہ رکھنے والا فدیہ نہیں دے سکتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلْیَصُمْہُ"حتی کہ حائضہ عورت نمازوں کی قضا نہیں کرتی مگر روزوں کی قضا کرتی ہے لہذا حدیث اپنے ظاہر پر ہے۔

۳؎ آسمان میں بہت سی قسم کے دروازے ہیں:روزی اور فرشتے اترنے کے لیے دروازے،لوگوں کے اعمال جانے کے دروازے،عذاب آنے کے دروازے،مخصوص رحمتیں اترنے کے دروازے وغیرہ یہاں یہ آخری قسم کے دروازے مراد ہیں یعنی رمضان میں خاص رحمتوں یا خاص فرشتوں کی آمد کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آسمان کے دروازے تو ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To