We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

کہ کفار و مشرکین دوسری عبادتیں بتوں کے لیے بھی کرلیتے ہیں قربانی،سجدہ،حج و خیرات وغیرہ مگر کوئی کافر روزہ بت کے لیے نہیں رکھتا اگر روزہ رکھتے بھی ہیں تو صفائی نفس کے لیے تاکہ اس صفائی سے بتوں سے قرب حاصل ہو۔غرض کہ روزہ غیراﷲ کے لیے نہیں ہوتا۔(ازمرقات،اشعہ وغیرہ)

۳؎ اس عبارت کی دو قرأتیں ہیں اجزی معروف اور اجزی مجہول یعنی روزہ کا بدلہ میں براہ راست خود دوں گا،میں دینے والا روزہ دار لینے والا جو چاہوں دوں اس کی جزا مقرر نہیں یا روزہ کا بدلہ میں خود ہوں یعنی تمام عبادات کا بدلہ جنت ہے اور روزہ کا بدلہ جنت والا رب اس کی وجہ آگے آرہی ہے۔

۴؎  یعنی دوسرے عابد عابد ہیں یہ عابدبھی اور عاشق بھی یا روزہ دار ریا ء کے لیے کھانا پینا نہیں چھوڑتا وہ صرف میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے ریا کار چھپ کر کھا کر روزہ ظاہرکرسکتا ہے۔

۵؎ سبحان اﷲ!کیسا پیارا فرمان ہے روزہ دارکو افطار کے وقت روحانی خوشی بھی ہوتی ہے کہ عبادت ادا ہوئی رب تعالٰی راضی ہوا سینہ میں نور دل میں سرور ہوا اور جسمانی فرحت بھی کہ سخت پیاس کے بعد ٹھنڈا پانی بہت ہی فرحت کا باعث ہے اور تیز بھوک میں رب تعالٰی کی روزی بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے اور ان شاءاﷲ مرتے وقت بھی بروز قیامت بھی رب تعالٰی کی مہربانی دیکھ کر روزہ دار کو جو خوشی ہوگی وہ تو بیان سے باہر ہے وہ کریم فرمائے گا کہ دنیا میں جو میں نے کہا وہ تو نے کیا اب جو تو کہے گا وہ میں کروں گا اﷲ تعالٰی خیریت سے وہ وقت دکھائے۔اﷲ کا شکر ہے کہ فقیرحقیرگنہگار یہ بیان بھی آج ۲۵ رمضان المبارک ۱۳۷۹ھ؁ جمعرات کے دن لکھ رہا ہے۔رب تعالٰی اپنے فضل و کرم اور محبوب معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے اس قال کو حال بنا دے۔

۶؎  خیال رہے کہ منہ کی وہ بو جو دانتوں کے میل وغیرہ یا بیماری سے پیدا ہوکر نحر کہلاتی ہے اور جو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا سے خلوف کہتے ہیں،دانتوں کے میل کی بو تو مسواک ومنجن سے جاسکتی ہے اور بیماری کی بو دواؤوں سے مگر خلوف معدہ کی بو صرف کھانے سے جاسکتی ہے۔تجربہ ہے کہ یہ بو مسواک کے بعدبھی رہتی ہے لہذا یہ حدیث نہ امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کی اس پر دلیل ہے کہ بعد زوال روزہ میں مسواک منع اور نہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے اس مسئلہ کے خلاف ہےکہ روزہ میں مسواک ہر وقت جائزہے۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ جملہ ایسا ہے جیسے ماں کہے کہ مجھے اپنے بچے کا پسینہ کیوڑے گلاب سے پیارا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پسینہ دھویا بھی نہ جائے۔روزہ میں مسواک کی پوری بحث ان شاءاﷲ آگے آئے گی۔

۷؎ کہ دنیا میں نفس و شیطان کے شر سے بچاتے ہیں اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے بچائیں گے۔

۸؎  شور سے مراد جنگ و جدال کا شور ہے۔شریعت میں روزہ پیٹ اور دماغ کا ہوتا ہے مگر طریقت میں سارے اعضاء کا کہ انہیں گناہوں سے بچایا جائے اس جملہ میں اسی روزہ کی تعلیم ہے۔

۹؎ لہذا میں تجھ سے لڑنے کو تیار نہیں اس پر ان شاءاﷲ وہ خود ہی شرمندہ ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ میں روزہ دار ہوں اﷲ کی ضمان میں ہوں مجھ سے لڑنا گویا رب کا مقابلہ کرنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنی چھپتی عبادت کا اظہار جائز ہے بشرطیکہ فخر و ریا کے لیے نہ ہو۔

 



Total Pages: 441

Go To