Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  اس عبادت سے مراد نماز تراویح ہے جو صرف رمضان میں ادا ہوتی ہے یا نماز تہجد۔

۳؎ مرقات نے فرمایا کہ ان جیسے نیک اعمال سے گناہ صغیرہ تو معاف ہوجاتے ہیں اور گناہ کبیرہ صغیرہ بن جاتے ہیں اور بے گناہوں کے درجات بڑھ جاتے ہیں لہذا اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ رمضان میں روزوں کی برکت سے گناہ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں اور تراویح کی برکت سے گناہ کبیرہ ہلکے پڑ جاتے ہیں اور شب قدر کی عبادت کی برکت سے درجے بڑھ جاتے ہیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ جب روزوں سے گناہ معاف ہوگئے تو پھر تراویح اور شبِ قدر کی عبادت سے کیا ہوگا۔

1959 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفِ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يصخب وفإن سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِم "

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کی ساری نیکیاں دس۱۰ گُنے سے سات سوگُنے تک بڑھائی جائیں گی ۱؎ رب تعالٰی فرماتے ہیں سوائے روزہ کے کہ روزہ تو میرا ہے ۲؎  اور میں ہی اس کا ثواب دوں گا۳؎  وہ میرے لیے اپنی شہوت اور اپنا کھانا چھوڑتاہے۴؎  روزہ دار کو دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملتے وقت ۵؎ روزہ دار کی منہ کی بدبو اﷲ کے ہاں مشک کی خوشبو سے بہتر ہے ۶؎ اور روزے ڈھال ہیں۷؎ اور جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ بری بات کہے نہ شور مچائے ۸؎ اگر کوئی اس سے گالی گلوچ یا جنگ کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ۹؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی قانونًا ایک نیکی کا ثواب کم سے کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ سات سو گنا ہے اگر اﷲ اور زیادہ دے تو اس کا کرم ہے۔اس حدیث سے دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے ایک تو"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"اور دوسری"کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ

۲؎ اگرچہ ساری عبادتیں اﷲ تعالٰی کی ہیں مگر خصوصیت سے روزہ کو فرمایا کہ یہ میرا ہے چند وجہوں سے:ایک یہ کہ دیگر عبادات میں اطاعت غالب ہے اور روزہ میں عشق غالب اور روزہ دار میں علامات عشق جمع ہوجاتی ہیں۔شعر

عاشقاں راشس نشان است اے پسر                        آہ  سرد و رنگ  زرد و چشم  تر

گر    ترا     پرسند    سہ    دیگر    کدام                                   کم خورد کم گفتن و خفتن حرام

اور مطیع کا عوض ثواب ہے عاشق کا عوض لقائے یار۔دوسرے یہ کہ دوسری عبادتوں میں ریا ہوسکتی ہے کیونکہ ان کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے اور ان میں کچھ کرنا ہوتا ہے مگر روزہ میں ریاء نہیں ہوسکتی کہ نہ اس کی کوئی صورت ہے اور نہ اس میں کچھ کرنا ہے،جو اندر باہر کچھ نہ کھائے پیئے وہ یقینًا مخلص ہی ہے،ریا کار گھر میں کھا کر بھی روزہ ظاہر کرسکتا ہے۔تیسرے یہ کہ کل قیامت میں دوسری عبادتیں اہل حقوق چھین سکتے ہیں حتی کہ قرض خواہ مقروض سے سات سو نمازیں تین پیسہ قرض کی عوض لے لے گا۔(شامی)مگر روزہ کسی حق والے کو نہ دیا جائے گا،رب تعالٰی فرمائے گا کہ روزہ تو میرا ہے یہ کسی کو نہیں ملے گا۔چوتھے یہ



Total Pages: 441

Go To