Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎  یہ جملہ بھی اپنے ظاہری معنے پر ہی ہے کہ ماہ رمضان میں واقعی دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس مہینہ میں گنہگاروں بلکہ کافروں کی قبروں پر بھی دوزخ کی گرمی نہیں پہنچتی۔وہ جومسلمانوں میں مشہور ہے کہ رمضان میں عذابِ قبر نہیں ہوتا اس کا یہی مطلب ہے اورحقیقت میں ابلیس مع اپنی ذریتوں کے قیدکردیا جاتا ہے۔اس مہینہ میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفس امارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ کہ شیطان کے بہکانے سے۔فقیر کی اس تقریر سے اس حدیث کے متعلق بہت سے اعتراضات دفع ہوگئے مثلًا یہ کہ جب ابھی جنت میں کوئی جا ہی نہیں رہا تو اس کے دروازے کھلنے سے کیا فائدہ یا یہ کہ جب دوزخ کے دروازے بند ہوگئے تو رمضان میں گرمی کہاں سے آتی ہے یا یہ کہ جب شیطان بند ہوگیا تو اس مہینہ میں گناہ کیسے ہوتے ہیں۔

1957 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ مِنْهَا: بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانَ لَا يدْخلهُ إِلَّا الصائمون "

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں آٹھ دروازے ہیں ۱؎ جن میں سے ایک باب الریان ہے جس میں صرف روزہ دار داخل ہوں گے ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یا اس طرح کہ جنت میں آٹھ طبقے ہیں ہر طقبہ کا ایک دروازہ یا اس طرح کہ جنت کی پہلی ہی دیوار میں آٹھ دروازے ہیں تاکہ ہرقسم کے نیک لوگ اپنے اپنے الگ دروازے سے داخل ہوں۔

۲؎  ریان بروزن فعلان ریٌ سے بنا،بمعنی تروتازگی،سیرابی و سبزی۔چونکہ روزہ دار روزوں میں بھوکے پیاسے رہتے تھے اور بمقابلہ بھوک کے پیاس کی زیادہ تکلیف اٹھاتے تھے اس لیے ان کے داخلے کے لیے وہ دروازہ منتخب ہوا جہاں پانی کی نہریں بے حساب، سبزہ،پھل فروٹ اور سیرابی ہے،اس کا حسن آج نہ ہمارے وہم و گمان میں آسکتا ہے نہ بیان میں ان شاءاﷲ دیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ روزہ چور اور روزہ توڑ مسلمان اگرچہ رحمت خداوندی اور شفاعت مصطفوی کی برکت سے بخش بھی دیئے جائیں اور جنت میں داخل بھی ہوجائیں مگر اس دروازے سے نہیں جاسکتے کہ یہ دروازہ تو روزہ داروں کے لیے مخصوص ہے۔

1958 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۱؎ اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۲؎ اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ احتساب حسبٌ سے بنا،بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہوجائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔دفع ضرر یہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ، حقوق اﷲ معاف ہوجاتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہندؤوں کے برت(روزہ)اور کافروں کے اپنے دینی روزوں کا کوئی ثواب نہیں کہ وہاں ایمان نہیں اور جوشخص بیماری کے علاج کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں کہ وہاں احتساب نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To