Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎  چوری یا مولیٰ کے نقصان کی نیت سے نہیں بلکہ محض ثواب کی غرض سے کیونکہ غلاموں کو اس قسم کے صدقات کی عادۃً اجازت ہوتی ہے۔

۴؎  اس جملہ سے فقیر کی شرح کو قوت پہنچتی ہے اگر ان کی نیت فاسد ہوتی تو اس واقعہ کو دبالیتے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت نہ لاتے۔شکایت کا منشا یہ ہی تھا کہ میں تو مولیٰ کے مال سے صدقہ کرکے ان کا فائدہ کرتا ہوں وہ مجھے مارتے ہیں۔

۵؎  یعنی اگر تم اس کے دیئے ہوئے سے راضی ہوجاؤ تو تم بھی ثواب پاؤ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ غلام کو مولیٰ کی بغیر اجازت اس کے مال میں تصرف کرنے کی مطلقًا اجازت دے دی جائے بلکہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی نیک نیتی پر مطلع تھے اس لیے ان کے مولیٰ کو ایک بہتر بات کی ہدایت دی۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر مولیٰ بلاقصور بھی غلام کو مار دے تو مولیٰ پر اس کا قصاص نہیں،یونہی اگر باپ بیٹے کو،استاد شاگرد کو غلط فہمی کی بنا پر بلاوجہ بھی مارے تو قصاص نہیں،دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے بلاقصور ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے مگر اصل واقعہ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی بے قصوری معلوم ہونے پر ان کے لیے دعا کی لیکن قصاص نہ دیا لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے کو حضرت عکاشہ کے سامنے پیش فرمادینا تعلیم عدل کے لیے ہے نہ کہ بیان قانون کے لیے۔

۶؎  اس کا مطلب وہی ہے جو پہلے عرض کیا جاچکا کہ اس سے وہ صورتیں مراد ہوتی ہیں جن میں مولیٰ کی طرف سے غلام کو عرفًا خرچ کردینے کی اجازت ہوتی ہے ورنہ کسی کا مال اس کی بغیر اجازت خیرات نہیں کرسکتے۔


 



Total Pages: 441

Go To