We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ یعنی حسین صورت دراز قامت عزت و شرف والی کہ قبیلہ مضر کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے آج مصری لوگ یعنی غالبًا وہ بی بی قبیلہ مضرابن نزار سے تھیں۔

 ۲؎یعنی یہ لوگ ہم کو ہمارے حق پورے نہیں دیتے ہم پر خرچ کرتے گھبراتے ہیں۔خیال رہے کہ لڑکی کا خرچ شادی سے پہلے باپ کے ذمہ ہے شادی کے بعد خاوند کے ذمہ،صاحب اولاد ہونے کے بعد بیٹے پر ماں باپ کی ہر طرح کی خدمت لازم ہے مگر پھر بھی خاوند پر اس کا خرچہ رہے گا۔

۳؎  یعنی پکے ہوئے کھانے تر میوہ جو زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتے انہیں خود بھی کھاؤ اور ہدیہ بھی دو ہر وقت علیحدہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان چیزوں کے ہدیہ کی عرفًا اجازت ہوتی ہے۔حق یہ ہے کہ یہ حدیث باپ،اولاد،خاوند سب کے مال کے متعلق ہے۔لڑکی باپ کے مال سے،ماں اولاد کے مال سے،بیوی خاوند کے مال سے بغیر صریحی اجازت کے اس قسم کی چیزوں میں سے صدقہ ہدیہ سب کچھ کرسکتی ہے حق یہ ہی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1953 -[7]

عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ: «لِمَ ضَرَبْتَهُ؟» فَقَالَ يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ فَقَالَ: «الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أأتصدق مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت عمیر سے جو ابی اللحم کے غلام ہیں ۱؎ فرماتے ہیں کہ میرے مولا نے مجھے گوشت سکھانے کا حکم دیا ۲؎ کہ ایک مسکین آگیا جسے میں نے اس میں سے کچھ دے دیا۳؎  اس کی خبر میرے مولا کو ہوئی تو اس نے مجھے مارا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا حضور سے عرض کیا ۴؎ حضور نے انہیں بلایا فرمایا تم نے انہیں کیوں مارا عرض کیا کہ یہ میرا کھانا میری بغیر اجازت دے دیتا ہے فرمایا ثواب تم دونوں کو ہے ۵؎  ایک روایت میں یوں ہے کہ فرماتے ہیں میں مظلوم تھا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا اپنے مولا کے مال سے کچھ خیرات کردیا کروں فرمایا ہاں اور ثواب تم دونوں کو آدھا آدھا ہو گا۶؎(مسلم)

۱؎ عمیر صحابی ہیں،غزوہ خیبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،ان کے مولیٰ بھی صحابی ہیں،ان کے مولی کا نام عبداﷲ ہے،لقب ابی اللحم یعنی گوشت کے انکاری،چونکہ یہ گوشت کی تجارت کرتے تھے مگر خود بالکل نہ کھاتے تھے اس لیے ان کا یہ لقب ہوا۔بعض نے فرمایا کہ یہ زمانۂ جاہلیت میں بتوں کے نام کا ذبح کیا ہوا گوشت نہ کھاتے تھے مشہور اور پرانے صحابہ میں سے ہیں، جنگ بدر میں شریک ہوئے اور غزوہ حنین میں شہید۔

۲؎ اَقْدِدْ قَدٌّ سے بنا یعنی گوشت کے لمبے پارچے کرنا،چونکہ یہ پارچے سکھانے کے لیے کئےجاتے ہیں اس لیے اب سکھانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔اہلِ عرب گوشت سکھاکر مہینوں استعمال کرتے ہیں اب بھی سوکھا گوشت ولایت سے بند ڈبو ں میں آتا ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To