We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  یعنی ہاں ان کی طرف سے تم صدقہ دو انہیں ضرور ثواب ملے گا۔لمعات میں حضرت شیخ نے فرمایا کہ اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے صدقہ اور اس کے لیے دعا کرنا سنت ہے اس سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے۔صدقہ کے ثواب پہنچنے میں تمام اہلِ حق کا اتفاق ہے البتہ بدنی عبادت کے متعلق علماء میں اختلاف ہے مگر حق یہ ہے کہ ان کا ثواب بھی پہنچتا ہے ہم بیرام سعد کی حدیث میں اس مسئلہ کو وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ اس قسم کی ایصال ثواب کی احادیث نہ تو اس آیت کے خلاف ہیں کہ"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور نہ ا سکے کہ"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"کیونکہ ان آیات میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کی طرف سے بدنی عبادتیں ادا نہیں کرسکتا کہ اس کی طرف سے نمازیں فرض ادا کردیا کرے یا روزے رکھ دیا کرے،ادائے فرض اور ہے ثواب کچھ اور اسی لیے آیات میں کسب اور سعی کا ذکر ہوا نہ کہ ثواب کا،ایصال تو قرآن کریم کی آیت سے ثابت ہے،دیکھو ہماری کتاب"فہرست القرآن"۔ اشعۃ للمعات میں اسی جگہ ہے کہ شیخ عزیز الدین عبدالسلام کو کسی نے ان کی موت کے بعد خواب میں دیکھا فرمایا ہم دنیا میں تلاوت قرآن کے ثواب پہنچنے کے منکر تھے مگر اس جہاں میں آکر پتہ لگا کہ اس کا ثواب بھی پہنچتا ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1951 -[5]

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حُجَّةِ الْوَدَاعِ: «لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الطَّعَامَ؟قَالَ:«ذَلِكَ أفضل أَمْوَالنَا».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

 روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے بغیر خاوند کی اجازت کچھ خرچ نہ کرے ۱؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا بھی نہیں فرمایا یہ تو ہمارا بہترین مال ہے ۲؎(ترمذی)

۱؎ یعنی بیوی خاوند کے مال سے بغیر اجازت خیرات نہ کرے اجازت خواہ صریحی ہو یا عرفی جیسے عام طور پر بیویوں کو خاوندوں کی طرف سے روٹی کا ٹکڑا،معمولی چیز خیرات کردینے،مہمانوں کی خاطر تواضح کردینے کی اجازت ہوتی ہے بلکہ خاوند اس پرمطلع ہوکر خوش ہوتے ہیں کہ ہماری بیوی سلیقہ مند ہے،مہمان نواز ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔

۲؎  یعنی کھانا تو بہتر ین مال ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے جب اپنے خاوند کی اجازت بغیرمعمولی چیز بھی خرچ نہیں کرسکتی تو کھانے جیسی بہترین چیز کیسے خیرات کرسکتی ہے،اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا۔

1952 -[6]

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءُ قَامَتِ امْرَأَةٌ جَلِيلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كَلٌّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ قَالَ: «الرطب تأكلنه وتهدينه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تو ایک شاندار عورت شاید وہ مضر کی عورتوں سے تھی ۱؎ اٹھی اور بولی یا نبی اﷲ ہم تو اپنے باپ،دادوں،اولاد اور خاوندوں پر بوجھ ہیں ۲؎  ہمیں ان کے مالوں سے کس قدر درست ہے فرمایا تر کھانا جسے تم کھالو اور ہدیہ دے سکو۳؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 441

Go To