Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎  یہ اس صورت میں ہے کہ خاوند نے صراحۃً تو خیرات کی اجازت نہ دی ہو مگر عرفًا اجازت ہو عورت کو معلوم ہو کہ خاوند اس خرچ سے ناراض نہ ہو گا عورت کو آدھا ثواب اسی لیے فرمایا کہ مرد کمانے والا ہے کمانے میں محنت زیادہ ہوتی ہے اور ثواب بقدر مشقت ملتا ہے۔

1949 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أَمر لَهُ بِهِ أحد المتصدقين»

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان امانت دار خزانچی کو ۱؎ جو اسے حکم دیا جائے وہ پورا اور مکمل خوش دلی سے خیرات کر دے اور اس کو دے جسے دینے کو کہا گیا وہ بھی دو میں سے ایک صدقہ دینے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ بادشاہوں امیروں کے ہاں خزانچی بھی ملازم ہوتے ہیں جن کے پاس مالک کا روپیہ جمع رہتا ہے جس کا وہ لین دین کرتے ہیں اور حساب رکھتے ہیں خزانچی مسلمان بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی اگلا اجر صرف مسلمان خزانچی کے لیے ہے کیونکہ کافر کسی نیکی کے ثواب کا مستحق نہیں،ثواب قبولیت پر ملتا ہے اور قبولیت کی شرط اسلام ہے۔اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان کو چاہئیے کہ حتی الامکان خزانچی مسلمان رکھے اور کلیدی آسامیوں پر مسلمان کو لگائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنْ دُوۡنِکُمْ"۔کفار کو اپنا مشیر نہ بناؤ،نیز امین اور حساب دان مسلمان کو خزانچی بناؤ۔

۲؎ یعنی اگر مسلمان امین خزانچی میں صدقہ دیتے وقت چار صفتیں جمع ہوجائیں تو مالک کی طرح اسے بھی صدقہ کا ثواب ملے گا:(۱) مالک کے حکم سے صدقہ دے۔(۲)پورا پورا صدقہ دے حکم سے کم نہ دے۔ (۳)خوشدلی سے دے جل کر نہ دے جیساکہ بعض خازنوں کی عادت ہے کہ مالک خیرات کرے ان کی جان جلے۔(۴) جہاں صدقہ دینے کو کہا گیا ہے وہاں ہی دے مصرف نہ بدلے،مسجد میں دینے کو کہا ہے تو مسجد میں دے،خانقاہ پر خرچ کرنے کو کہا ہے تو وہاں ہی خرچ کرے۔وحی کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعْدَمَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗیہ حدیث گویا اس آیت شریف کی تفسیر ہے۔

1950 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقت عَنْهَا؟ قَالَ: نعم "

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری ماں اچانک فوت ہوگئی میرا خیال ہے کہ اگر کچھ بولتیں تو خیرات کرتیں ۱؎ تو کیا انہیں ثواب ہوگا اگر میں ان کی طرف سے خیرات کردوں فرمایا ہاں ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ سائل حضرت عبادہ ابن عبادہ تھے،ان کی والدہ عمرہ بنت مسعود ابن قیس ابن عمرو ابن زید تھیں،     ۵ھ؁  میں ہاٹ فیل(Heart Fail)یعنی حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئیں،ناگہانی موت غافل کے لیے عذاب ہے کہ اسے توبہ اور نیک اعمال کا موقعہ نہیں ملتا مگر ذکر خدا میں رہنے والے مؤمن کے لیے رحمت کہ اﷲ تعالٰی اسے بیماری کی شدتوں سے بچالیتا ہے لہذا حدیث پرکوئی اعتراض نہیں،آپ کی والدہ صحابیہ ہیں،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرچکی تھیں،بڑی عابدہ زاہدہ تھیں۔

 



Total Pages: 441

Go To