We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب صدقۃ المرأة من مال الزوج

باب خاوند کے مال سے بیوی کی خیرات  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اگرچہ باب میں صرف بیوی کا ذکر ہے مگر اس میں خازن نوکر چاکر سب شامل ہیں اسی لیے اس باب میں خازن کے خرچ کردینے کا بھی ذکر ہوگا،چونکہ عمومًا بیویاں ہی خاوند کے مال سے خیرات کیا کرتی ہیں خازن تو کسی کسی کے پاس ہوتے ہیں اس لیے بیویوں کا ذکر ہوا۔

1947 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذْ أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بعض شَيْئا»

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورت اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خیرات کرے بشرطیکہ بربادی کی نیت نہ ہو تو اسے خیرات کرنے کا ثواب ہوگا ۱؎ اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب اور خزانچی کو بھی اس کے برابر جن میں کوئی دوسرے کے ثواب سے کچھ کم نہ کرے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اگرچہ حدیث پاک میں کھانے کی خیرات کا ذکر ہے مگر اس میں تمام وہ معمولی چیزیں داخل ہیں جن کے خیرات کرنے کی خاوند کی طرف سے عادۃً اجازت ہوتی ہے جیسے پھٹا پرانا کپڑا،ٹوٹا جوتا وغیرہ اور کھانے میں بھی عام کھانا روٹی سالن داخل ہے جس کو خیرات کرنے سے خاوند کی طرف سے ناراضی نہیں ہوتی،اگر خاوند نے کوئی خاص حلوہ یا معجون اپنے گھر کے لیے بہت روپیہ خرچ کرکے تیار کی ہے تو اس میں سے خیرات کی عورت کو اجازت نہیں۔مرقات نے فرمایا یہاں خرچ کرنے میں بچوں پر خرچ،مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ،بھکاری فقیر پر خرچ سب ہی شامل ہے مگر شرط یہ ہی ہے کہ مال بربادکرنے کی نیت نہ ہو بلکہ حصول ثواب کا ارادہ ہو اور اتنا ہی خرچ کرے جتنے خرچ کردینے کی عادت ہوتی ہے۔

۲؎  یہاں اصل ثواب میں سب برابر ہیں اگرچہ مقدار ثواب میں فرق ہے۔کمانے والے کا ثواب ان سب میں زیادہ ہوگا لہذا یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں عورت کے لیے آدھا ثواب فرمایا گیا ہے کہ یہاں اصل ثواب میں برابر مقصود ہے اور وہاں مقدار ثواب میں فرق ہے۔

1948 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا نِصْفُ أَجْرِهِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب عورت اپنے خاوند کی کمائی سے ۱؎  اس کے صریحی حکم کے بغیر خیرات کرے تو اسے خاوند سے آدھا ثواب ہوگا ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ خاوند کی کمائی کی اس لیے قید لگائی کہ اگر عورت اپنی ملک سے خیرات کرے تو اس کایہ حکم نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To