Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۵؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اس باغ کی آمدنی لگادیں کہ وہاں خرچ ہوتی رہے،چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا چاہنا اپنے نفس کی طرح سے نہیں ہوتا بلکہ رب تعالٰی کی طرف سے ہوتاہے اسی لیے اس طرح عرض کیا"حَیْثُ اَرَاكَ اﷲُ"صحابہ کرام اپنے صدقے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے خرچ کراتے تھے تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے قبول ہوجائیں،رب تعالٰی ٰ فرماتا ہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا"یعنی آپ ان کے مالوں کے صدقے وصول فرمالیں اور ان کے ذریعہ انہیں پاک و صاف فرمادیں آج مسلمان ختم و فاتحہ میں عرض کرتے ہیں نذر اﷲ نیاز رسول اﷲ اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔

۶؎ عربی میں نہایت خوشی کے اظہار کے وقت کہا جاتا ہے بخ بخ یعنی خوب خوب۔رابح ربح سے بنا،بمعنی نفع،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَمَا رَبِحَتۡ تِّجٰرَتُہُمْ"یعنی یہ مال بہت نفع والا ہے جیسے لابن دودھ والا اور تامر چھواروں والا یعنی اے ابوطلحہ! تمہیں اس باغ کے وقف سے بہت نفع ہوگا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو اعمال کی قبولیت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کون سا عمل کس درجہ کا قبول ہے یہ باغ کیوں قبول نہ ہوتا باغ بھی اچھا تھا وقف کرنے والےبھی اچھے یعنی صحابی اور جن کی طفیل وقف کیا گیا وہ اچھوں کے شہنشاہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

۷؎ یعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مصرف بنادو کہ ہمیشہ وہ اس کی آمدنی کھایا کریں تاکہ تمہیں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے۔خیال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہیں جن سے امیروغریب حتی کہ وقف کرنے والا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جیسے کنواں،مسجد،قبرستان،مسافر خانہ۔

۸؎ اس کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ باغ تو وقف رہا مگر اس کی تولیت تقسیم کردی گئی کہ اتنے حصے کے فلاں متولی کہ خود کھائیں اور دوسروں کو کھلائیں اور اتنے حصے کے فلاں۔دوسرے یہ کہ خود باغ ہی کو تقسیم کردیا کہ ان لوگوں کو ان حصوں کا مالک بنادیا مگر اشعۃ اللمعات میں شیخ نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں ان کے اہل قرابت سے وہ باغ خرید لیا اور وہاں اپنی عمارتیں بنائیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقسیم بطریق تملیک تھی بطریق تقسیم تولیت نہ تھی حضرت حسان ابن ثابت و ابی ابن کعب کو بھی اس سے حصہ ملا تھا۔

1946 -[18]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبِعَ كَبِدًا جَائِعًا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے کلیجے کو سیر کردو ۱؎ (بیہقی فی شعب الایمان)

۱؎ بھوکے کلیجے سے مراد ہر بھوکا جاندار ہے انسان ہو یا دیگر جانور پھر انسانوں میں مؤمن ہویا کافر۔(مرقات و اشعہ)مگر اس سے موذی جانور علیحدہ ہیں جیسے شیر،بھیڑیا،سانپ وغیرہ۔بعض مشائخ کے ہاں لنگر عام جاری ہوتا ہے جہاں ہر آنے والا کھاتا ہے،بعض بزرگوں کے ہاں جانوروں،کبوتروں،کووں وغیرہ کو دانہ ڈالا جاتا ہے،بعض لوگ مدینہ منورہ کے کبوتروں کے لیے حجاج کے ہاتھ دانہ بھیجتے ہیں ان سب کی اصل یہ حدیث ہے۔


 



Total Pages: 441

Go To