Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎ اس طرح کہ وہ جس قسم کا سلوک تم سے کرے قولی،عملی ،مالی تم بھی اس سے ویسا سلوک کرو۔رب تعالٰی فرماتاہے:"ہَلْ جَزَآءُ الْاِحْسٰنِ اِلَّا الْاِحْسٰنُ"اور فرماتاہے:"وَ اَحْسِنۡ کَمَاۤ اَحْسَنَ اللہُ اِلَیۡکَ"۔یہ حکم ہم جیسے کم ہمت لوگوں کے لیے ہے ہمت والے تو اپنے دشمنوں کی برائی کا بدلہ معافی اور بھلائی سے کرتے ہیں۔شعر

لیا ظلم کا عفو ہے انتقام                              علیہ الصلوۃ علیہ السلام

۴؎ اس طرح کہ کہو"جزاك اﷲ"یا اس کا کھانا کھا کر کہو"اللھم اطعم من اطعمنا واسق من سقانا" وغیرہ حضرت عائشہ صدیقہ کو جب کوئی سائل دعائیں دیتا تو آپ پہلے اسے دعائیں دیتیں پھر بھیک عطا فرماتیں کسی نے پوچھا کہ آپ عطا سے پہلے دعا کیوں دیتی ہیں فرمایا کہ میرا صدقہ عوض سےبچارہے،رضی اللہ عنہا۔ (مرقات)

۵؎  اس بنا پر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہمیشہ ہی درود شریف پڑھنا چاہئیے کیونکہ کوئی شخص نہ تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ کرسکتا ہے اور نہ بقدر احسان دعائیں ہی دے سکتا ہے کہ ان کے احسانات ہر آن بے شمار پہنچ رہے ہیں،ہر کلمہ،ہر تلاوت،ہر نماز بلکہ ہر نیک عمل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر احسانات ہیں لہذا مرتے مرتے ان کو دعائیں دو یعنی درود پاک پڑھو۔شعر

حی و باقی جس کی کرتا ہے ثنا                   مرتے دم تک اس کی مدحت کیجئے

جس کا حسن اﷲ کو بھی بھاگیا                   اس  کے  پیارے  سے  محبت  کیجئے

1944 -[16]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللَّهِ إِلَّا الْجنَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے کہ اﷲ کے نام پر صرف جنت ہی مانگی جائے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ شیخ نے اس حدیث کے دو مطلب بیان کئے:ایک یہ کہ کسی شخص سے اﷲ کے نام پر کچھ نہ مانگوکیونکہ اﷲ تعالٰی کے نام پر مانگنے کی چیز جنت ہے اور یہ شخص جنت دے نہیں سکتا۔دوسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی سے اس کے نام پر دنیاوی چیز نہ مانگو بلکہ اس کے نام پر اس سے جنت مانگو  یہ عرض کرو"اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُكَ بِوَجْھِكَ الْکَرِیْمِ اَنْ تُدْخِلَنَا الْجَنَّۃَ"۔فقیر احمد یار کہتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اﷲ تعالٰی کے نام پر جنت مانگو جیسے حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت مانگی"اَسْئَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِی الْجَنَّۃِ"۔بعض عشاق کہتے ہیں کہ خدا تعالٰی سے جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانگو اور جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالٰی کو مانگو۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم  از تومے خواہم خدارا                                               خدایا   از   تو   عشق   مصطفےٰ   را

حضرت ربیعہ نے بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنت ہی میں ملیں گے اس لیے جنت بھی مانگ لی عرض کیا آپ سے آپ کی ہمراہی مانگتا ہوں جو جنت میں ہوگی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1945 -[17] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أنس بن مَالك قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَة أَكثر أَنْصَارِي بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بيرحاء وَكَانَت مُسْتَقْبل الْمَسْجِدَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أنس فَلَمَّا نزلت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)قَامَ أَبُو طَلْحَة فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُول: (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ)وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لله أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَخٍ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنَّى أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ» . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَّمَهَا أَبُو طَلْحَة فِي أَقَاربه وَفِي بني عَمه

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ مدینہ میں تمام انصار سے زیادہ باغوں والے تھے اور انہیں زیادہ پیارا مال باغ بیرحاء تھا ۱؎ جو مسجد شریف کے سامنے تھا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں کا بہترین پانی پیتے تھے ۲؎ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ"الخ نازل ہوئی ۳؎ تو حضرت ابوطلحہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوکر بولے یا رسول اﷲ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تم بھلائی اس وقت تک نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنا پسندیدہ مال خرچ نہ کرو اور مجھے بہت پسندیدہ مال باغ بیرحاء ہے اب وہ اﷲ کے لیے صدقہ ہے میں اﷲ کے پاس اس کا ثواب اور اس کا ذخیرہ چاہتا ہوں۴؎ یا رسول اﷲ آپ اسے وہاں خرچ کریں جہاں رب تعالٰی آپ کی رائے قائم فرمائے ۵؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب خوب یہ تو بڑا نفع کا مال ہے ۶؎ جو تم نے کہا میں نے سن لیا میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے اہل قرابت میں وقف کردو ۷؎ ابوطلحہ بولے یا رسول اﷲ میں یہ ہی کرتا ہوں پھر اسے ابوطلحہ نے اپنے عزیزوں اور چچا زادوں میں تقسیم کردیا ۸؎(مسلم، بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To