Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۴؎ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ وہ شخص بدترین ہے جس سے فقیر اﷲ کے نام پر کچھ مانگے اور وہ نہ دے اس صورت میں دینے سے مراد مطلقًا دینا ہوگا اگرچہ ایک پیسہ ہی ہو یا بحالت مجبوری فقیر کو دعا خیر دینا ہی ہو۔ایک یہ کہ وہ سائل بھکاری بدترین شخص ہے جو لوگوں سے اﷲ کے نام پر مانگے اور لوگ اسے کچھ دیں نہیں کیونکہ یہ سائل اﷲ تعالٰی کے نام کی توہین کرتا ہے کہ پیسہ پیسہ کے لیے اﷲکا نام ہرکس وناکس کے سامنے لیتا ہے۔(اشعۃ اللمعات)

1942 -[14]

وَعَن أم بحيد قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَ النَّسَائِيُّ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُ

روایت ہے ام بجید سے ۱؎ فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سائل کو دے کر لوٹاؤ اگرچہ جلی کھری ہی ہو ۲؎ (مالک،نسائی)اورترمذی و ابوداؤد نے اس کے معنے روایت کئے۔

۱؎ آپ کا نام حوا بنت زید ابن سکن ہے مگر اپنی کنیت میں مشہور ہیں،انصاریہ ہیں،صحابیہ ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔

۲؎ یہاں سائل سے مراد حاجت مند سائل ہے اور جلی کھری سے مراد نہایت معمولی چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہ ہو یعنی اگر کوئی حاجت مند سائل آئے تو اسے خواہ معمولی چیز ہی بن پڑے دے دو۔خیال رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے،آج کل کے پیشہ ور سائل اور جن سائلوں کو دینا منع ہے وہ اس میں داخل نہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض سائلوں کو نہیں بھی دیا ہے کیونکہ وہاں سائل غیرحاجتمند تھے یا ایسی چیز مانگتے تھے جس کے وہ مستحق نہ تھے یا پیشہ بھیک سے انہیں روکنا مقصود تھا۔

1943 -[15]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَعَاذَ مِنْكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تُرَوْا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو تم سے اﷲ کی پناہ لے اسے پناہ دے دو ۱؎ اور جو اﷲ کے نام پر مانگے اسے کچھ دو اور جوتمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو ۲؎ اور جو کوئی تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ کرو ۳؎ اگر بدلہ کی چیز نہ پاؤ تو اس کو دعائیں دو ۴؎ حتی کہ سمجھ لو کہ تم نے اس کا بدلہ کردیا ۵؎(احمد،ابوداؤد، نسائی)

۱؎ یعنی جو تمہاری سختی یا غیر کی سختی سے تمہارے پاس اﷲ کی پناہ مانگے تو اسے دیدو کہ اگر تم کسی کو مارنا چاہتے ہو تو معافی دے دو یا کوئی دوسرا اس پر سختی کرنا چاہتا ہے اور تم دفع کرسکتے ہو تو کہہ دو،یہ حکم اپنے ذاتی معاملات میں ہے،قوم یا دین کے مجرم کو ہرگز معاف نہیں کرسکتے اگرچہ وہ کیسی ہی پناہ لے تاکہ امن و دین میں خلل نہ پڑے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ آپ نے فاطمہ مخزومیہ کو جس نے چوری کرلی تھی معافی نہ دی۔

۲؎ بشرطیکہ وہ دعوت ممنوعات شرعیہ سے خالی ہو لہذا جس ولیمہ میں ناچ گانا خاص کھانے کی جگہ ہو وہاں نہ جائے ایسے ہی میت کے کھانے پر رسمی دعوت قبول نہ کرے لہذا یہ فرمان فتویٰ فقہاء کے خلاف نہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To