Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۲؎ کیونکہ سب سے پہلے ہم پر اپنے نفس کا حق ہے کہ اگر ہم جیتے رہیں گے تو سارے حق ادا کریں گے اور اگر ہم ہی مرگئے تو عبادات معاملات سب کچھ ختم ہوگئے،ذات صفات پر مقدم ہے۔

۳؎ اہل یعنی گھر والوں سے مراد بیوی ہے،قرآن کریم نے اہل بیت بیوی کو فرمایا ہے اولاد کا حق بیوی پر چند درجہ سے مقدم ہے: ایک یہ کہ بیوی عاقلہ بالغہ ہے بوقت ضرورت کماسکتی ہے مگر چھوٹے بچے بالکل باپ کے محتاج ہیں کہ کمانے پر قادر نہیں۔دوسرے یہ کہ بیوی کا خرچ اس پر لازم نہیں اگر طلاق دیدے تو ختم ہوگیا مگر اولاد کا خرچ لازم ہے کہ وہ اس کی ولدیت سے نہیں نکل سکتے۔ تیسرے یہ کہ بیوی بعد طلاق دوسرے کے نکاح میں جاکر اس سے خرچ لے سکتی ہے،چھوٹی اولاد دوسرے کو نہ باپ بنا سکے نہ اس سے خرچ لے سکے۔ یہاں اولاد سے فقیر اولاد مراد ہے اگر بیٹا غنی اور بالغ ہو تو بیوی اس پر مقدم ہوگی،چونکہ سائل کے ماں باپ نہ تھے اس لیے والدین کے خرچ کا ذکر نہ فرمایا۔

۴؎ خادم سے مراد خدمتگار ہے انسان ہو یا گھوڑا وغیرہ جانور کہ ان سب کا خرچہ مالک کے ذمہ ہے۔(اشعہ)

۵؎ یعنی تمہیں اختیار ہے اس بچے ہوئے دینار کو رکھ چھوڑو یا اپنے پڑوسی یا دوسرے عزیزوں پر خرچ کردو یا کسی اچھی جگہ لگادو۔ سبحان اﷲ! کیا نفیس ترتیب ہے۔

1941 -[13]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ؟ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهَا. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تمہیں بہترین آدمی نہ بتاؤں ۱؎ وہ شخص ہے جو اﷲ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے رہے ۲؎ کیا تمہیں نہ بتاؤں کہ اس کے بعدکون ہے وہ شخص ہے جو اپنی بکریوں میں رہے ان میں سے اﷲ کا حق ادا کرتا رہے ۳؎ کیا میں تمہیں بدترین آدمی نہ بتاؤں وہ شخص ہے جو اﷲ کے نام پر مانگا جائے اور اس پر  بھی نہ دے۴؎(ترمذی،نسائی، دارمی)

۱؎ سرکار کا یہ پوچھنا سامعین کو شوق دلانے کے لیے ہوتا تھا کہ اس سے ان کو انتظار ہوجائے اور جو چیز انتظار کے بعد معلوم ہوتی ہے وہ یاد رہتی ہے اور یہاں خیروشر سے اضافی خیروشر مراد ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہترین بندہ مؤمن ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ"اور بدترین انسان کافر ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ

۲؎ یعنی ہر وقت جہاد کے لیے تیار رہے اعلان جنگ کا منتظر رہے،چونکہ اس زمانہ میں گھوڑا جہاد کا بڑا ہتھیار تھا اس لیے اس کا خصوصیت سے ذکر فرمایا آج توپ وبندوق کی مشق کرنے،ہوائی سروس کا آدمی جب تیاریٔ جہاد کے لیے یہ سب کچھ کرے وہ اس میں داخل ہوگا۔شیخ نے فرمایا کہ یہ کلام حصر کے لیے نہیں بلکہ شمول کے لیے ہے یعنی یہ مجاہد بھی بہترین لوگوں میں سے ہے۔

۳؎ عرب میں جانوروں والے لوگ جنگل میں اپنے گھر بنالیتے تھے وہاں ہی جانوروں میں رہتے تھے ان کی حفاظت بھی کرتے تھے اور اپنا گزارہ بھی۔انہیں اس لیے افضل فرمایا گیا کہ یہ بستی کے اکثر فتنوں سے محفوظ رہتے ہیں لوگوں سے اختلاط بہت سے گناہوں کا سبب ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To